سوال: دو افراد آپس میں کاروباری شریک ہیں، ان میں سے ایک شخص کاروبار کو اچھی طرح جانتا ہے، جبکہ دوسرا نیا ہے، جو شریک کاروبار کا تجربہ رکھتا ہے، وہ جب مارکیٹ سے سامان خریدنے جاتا ہے تو اپنے ذاتی تعلقات اور جان پہچان کی وجہ سے وہی چیز کم قیمت میں حاصل کر لیتا ہے۔ مثلاً کسی چیز کی عام مارکیٹ قیمت دو روپے ہے، لیکن اس کے تعلقات کی وجہ سے دکاندار اسے ڈیڑھ روپے میں دے دیتا ہے، جبکہ دوسرا شریک یا کوئی عام شخص جائے تو وہی چیز دو روپے میں ملتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس طرح تعلقات کی وجہ سے حاصل ہونے والی پچاس پیسے کی رعایت کیا صرف اسی شریک کا حق ہوگی یا چونکہ خریداری شراکت کے کاروبار کے لیے کی گئی ہے، اس لیے اس رعایت میں دوسرا شریک بھی شریک ہوگا؟
واضح رہے کہ شراکت میں دونوں شرکاء نفع و نقصان میں شریک ہوتے ہیں، نیز دونوں شرکاء ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں، لہٰذا خرید و فروخت کے معاملات میں ہر شریک دوسرے شریک کی طرف سے وکیل کی حیثیت رکھتا ہے، نیز مشترکہ مال میں سے کوئی شریک اپنی ہی مشترکہ دکان کو کوئی چیز فروخت نہیں کر سکتا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر ایک شریک اپنے تعلقات کی بنا پر مارکیٹ سے کوئی چیز عام قیمت سے کم قیمت پر خریدتا ہے تو اس خریداری میں ملنے والی رعایت مشترکہ کاروبار کا نفع شمار ہوگی، جس میں دونوں شرکاء اپنے طے شدہ تناسب کے مطابق شریک ہوں گے۔ اسی طرح چونکہ مذکورہ شریک دوسرے شریک کی طرف سے وکیل بھی ہے، اس لیے موکل کی اجازت کے بغیر خریداری میں حاصل ہونے والی رعایت یا رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں۔ مزید یہ کہ اگر مذکور شریک مارکیٹ سے چیز سستی خرید کر اسی مشترکہ دکان کو فروخت کرے تو اس میں یہ خرابی بھی لازم آئے گی کہ ایک ہی شخص بائع (بیچنے والا) اور مشتری(خریدنے والا) دونوں بن رہا ہے، جبکہ ایک شخص کا ایک ہی معاملے میں بائع اور مشتری بننا درست نہیں۔
الهندية: (2/ 320،ط:دارالفکر) فإن عملا وربحا فالربح على ما شرطا، وإن خسرا فالخسران على قدر رأس مالهما، كذا في محيط السرخسي. العقود الدرية: (1/ 93،ط:دار المعرفة) كأحد الشريكين إذا استربح من مال مشترك لنفسه فقط ويكون ربح نصيبها كسبا خبيثا. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (98/1، ط: دار الجیل) لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا.