السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میں ٹرین ڈرائیور ہوں، کیا میں مکمل نماز پڑھوں گا؟
شرعی سفر کی مسافت موجودہ پیمانے کے مطابق تقریباً سوا ستتر (77.24) کلومیٹر ہے، جو شخص اس مسافت یا اس سے زیادہ سفر کا ارادہ کرے اور کسی مقام پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت نہ ہو، وہ شرعاً مسافر شمار ہوگا اور نمازِ قصر ادا کرے گا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر ٹرین ڈرائیور شرعی مسافت کے بقدر سفر کرتا ہے اور کسی مقام پر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہیں رکھتا تو وہ مسافر شمار ہوگا اور قصر نماز پڑھے گا۔
الدرالمختارمع رد المحتار : (2/ 125، ط: دارالفكر) (فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر (أو) نوى (فيه )قوله في أقل منه) ظاهره ولو بساعة واحدة وهذا شروع في محترز ما تقدم . الهندية: (1/ 139، ط:دارالفكر( وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية. الدرالمختار:(120/2،ط: دارالفكر( من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر.