السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ ہمارے ہاں ایک مشترکہ خاندان میں رہائش ہے، کچھ عرصہ قبل بچوں کی لڑائی ہوئی، اس دوران لڑکی کے شوہر جن کا نام ماجد ہے، وہ گھر آئے اور اچانک اپنی بیوی پر غصہ ہو گئے۔ غصے کی حالت میں انہوں نے اپنی بیوی سے ایک ہی مجلس میں تقریباً 8 مرتبہ یہ الفاظ کہے: طلاق، طلاق، طلاق... بیچ میں شوہر کے بھائی نے ان کا منہ بند کرنے کی کوش بھی کی، لیکن انہوں نے مزید تیز ہو کر کہہ کر آخر میں یہ بھی کہا کہ بس طلاق ہو گئی ہے، بچی کے والد کا نام ابراہیم خان ہے، اب یہ معاملہ جرگے میں طے ہوگا۔ اور لڑکے والے جرگے میں اس طلاق کے مسئلے میں غیر مقلدین علماء کو لے کر آ رہے ہیں۔ اب مفتی صاحب پوچھنا یہ ہے: 1) ایک ہی مجلس میں متعدد بار "طلاق" کہنے سے شرعی حکم کیا ہے؟ 2) قرآن، سنت اور جمہور صحابہ و ائمہ اربعہ خصوصاً حنفی فقہ کی روشنی میں اس مسئلے کا کیا حکم ہے؟ 3) اگر غیر مقلدین حضرات "ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک" قرار دیں تو اس کے مقابلے میں جمہور کا مستند موقف کیا ہے؟ براہِ کرم کتاب و سنت اور امت کے اجماع کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب ارشاد فرمائیں تاکہ جرگے میں شرعی فیصلہ کیا جا سکے۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا
1،2) واضح رہے کہ تین طلاقیں دینا شرعاً ناپسندیدہ عمل ہے، تاہم اگر شوہر تین طلاقیں دے دے، خواہ الگ الگ اوقات میں دے، ایک ہی مجلس میں "تین طلاق" کہہ کر دے، یا ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ "طلاق" کے الفاظ دہرائے، ان تمام صورتوں میں جمہور امت اور آئمہ اربعہ کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اور اگر رخصتی (دخول) ہوچکی ہو تو نکاح طلاقِ مغلظہ کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ 3)دین اتباع کا نام ہے، خواہش پرستی یا سہولت پسندی کی اجازت نہیں دیتا، سلف صالحین کے اجماع کے مطابق احکامِ شرع پر عمل کے لیے آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید لازم ہے اور ایک امام کو اختیار کرنے کے بعد ہر مسئلے میں اسی کی پیروی لازم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ تین طلاقیں دی جا چکی ہیں، اس لیے نکاح ختم ہو گیا اور حرمتِ مغلظہ قائم ہو گئی، اب نہ رجوع ممکن ہے اور نہ دوبارہ نکاح کی اجازت، بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، اس شوہر کے ساتھ بغیر حلالہ شرعیہ کے رہنا زنا ہے، جوکہ حرام ہے۔
*القرآن الکریم:(البقرۃ: 230:2)* فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ . *الشامية:(80/4،ط: دارالفكر)* مطلب فيما إذا ارتحل إلى غير مذهبه (قوله ارتحل إلى مذهب الشافعي يعزر) أي إذا كان ارتحاله لا لغرض محمود شرعا، لما في التتارخانية: حكي أن رجلا من أصحاب أبي حنيفة خطب إلى رجل من أصحاب الحديث ابنته في عهد أبي بكر الجوزجاني فأبى إلا أن يترك مذهبه فيقرأ خلف الإمام، ويرفع يديه عند الانحطاط ونحو ذلك فأجابه فزوجه، فقال الشيخ بعدما سئل عن هذه وأطرق رأسه: النكاح جائز ولكن أخاف عليه أن يذهب إيمانه وقت النزع؛ لأنه استخف بمذهبه الذي هو حق عنده وتركه لأجل جيفة منتنة، ولو أن رجلا برئ من مذهبه باجتهاد وضح له كان محمودا مأجورا.أما انتقال غيره من غير دليل بل لما يرغب من عرض الدنيا وشهوتها فهو المذموم الآثم المستوجب للتأديب والتعزير لارتكابه المنكر في الدين واستخفافه بدينه ومذهبه اهـ ملخصا. *العنايةشرح الهداية:(177/4،ط: دارالفكر)* (وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾ *عقد الجيد فى احكام الإجتهاد والتقليد:(13/1المطبعة السلفية)* قال رسول الله ﷺ اتبعوا السواد الأعظم ولما اندرست المذاهب الحقة إلا هذه الأربعة كان اتباعها اتباعا للسواد الأعظم والخروج عنها خروجا عن السواد الأعظم.