السلام عليكم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! طلاق بائن کی عدت کے دوران طلاق ثلاثہ دینے سے طلاق واقع ہوتی ہے جب کہ الفاظ صریح ہوں، اب سوال یہ ہے کہ کیا طلاق بائن دینے سے عدت کے دوران نکاح باقی رہتا؟ جب طلاق کے محل جو کہ نکاح ہے باقی نہیں رہتا تو طلاق کیسے واقع ہوئی؟ برائے مہربانی مدلل اور مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
واضح رہے کہ طلاقِ بائن کے بعد اگر شوہر عدت کے دوران دوبارہ صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے تو وہ طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے ، کہ جس عورت سے نکاح کے بعد رخصتی (یا خلوتِ صحیحہ) ہوچکی ہو اسے طلاق دی جائے تو شوہر کے حق کی وجہ سے عورت پر عدت لازم ہوتی ہے اور جب تک عدت مکمل نہ ہو، نکاح کے بعض آثار باقی رہتے ہیں۔ اسی بنا پر عورت عدت کے دوران کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی، البتہ طلاقِ رجعی اور طلاقِ بائن میں یہ فرق ہے کہ طلاقِ رجعی میں شوہر عدت کے اندر بغیر تجدیدِ نکاح کے رجوع کر سکتا ہے، جبکہ طلاقِ بائن میں شدت ہونے کی وجہ سے رجوع درست نہیں ہوتا، بلکہ اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو عدت کے اندر نئے مہر کے ساتھ تجدیدِ نکاح ضروری ہوگی، لہٰذا طلاقِ بائن کے بعد بھی عدت کے دوران نکاح کے بعض احکام باقی رہتے ہیں، اسی لیے اگر شوہر اس مدت میں دوبارہ صریح الفاظ کے ساتھ طلاق دے تو وہ بھی واقع ہو جاتی ہے اور پہلی طلاق کے ساتھ شمار کی جاتی ہے۔
*الدر المختار: (215،ط:دارالفکر)* (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح: ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا. فتح، فمنه الطلاق الثلاث فيلحقهما، وكذا الطلاق على مال فيلحق الرجعي ويجب المال والبائن ولا يلزم المال كما في الخلاصة، فالمعتبر فيه اللفظ لا المعنى على المشهور (لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الاول: كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع لانه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخرى أو أنت طالق بائن، *الهندية: (1/ 377،ط:دارالفکر)* الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح بأن قال أنت طالق وقعت طلقة ثم قال أنت طالق تقع أخرى ويلحق البائن أيضا بأن قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها أنت طالق وقعت عندنا والطلاق البائن يلحق الطلاق الصريح بأن قال لها أنت طالق ثم قال لها أنت بائن تقع طلقة أخرى ولا يلحق البائن البائن بأن قال لها أنت بائن ثم قال لها أنت بائن لا يقع إلا طلقة واحدة بائنة لأنه يمكن جعله خبرا عن الأول وهو صادق فيه فلا حاجة إلى جعله إنشاء لأنه اقتضاء ضروري حتى لو قال عنيت به البينونة الغليظة ينبغي أن يعتبر وتثبت به الحرمة الغليظة إلا إذا كان البائن معلقا بأن قال إن دخلت الدار فأنت بائن ثم قال أنت بائن ثم دخلت الدار وهي في العدة تطلق كذا في العيني شرح الكنز.