کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میرے شوہر نے تقریبا ایک سال پہلے مجھے تین طلاق دی تھی بالکل اپنے ہوش وحواس میں ، دراصل مجھے خلع ( جو کورٹ سے لی جاتی ہے ) پر یقین نہیں کیونکہ وہ غیر اسلامی طریقہ ہے ۔ لہذا مجھے بتائیں کہ اپنے ہوش وحواس کے باوجود تین مرتبہ طلاق دینے کے بعد کوئی اختلاف تو نہیں ۔ براہ کرم ! جواب دے کر مشکور فرمائیں ۔
واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد میاں بیوی کا رشتہ ازدواج مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے ، لہذا تین طلاق دینے کے بعد نہ رجوع کا حق باقی رہتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کرنے کا ۔
الشامية : (3/ 233، ط: دارالفكر) وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث. الهندية: (1/ 349، ط: دارالفكر) (وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا.