السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ! ہمارے ایک رشتہ دار بوڑھے ہیں، ان کے جوان بچے اور پوتے ہیں، انہوں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو کیا وہ ایک گھر میں الگ الگ کمروں میں رہ سکتے ہیں؟
تین طلاق کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے بالکل اجنبی ہو جاتے ہیں، دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں، لیکن اگر دونوں عمر رسیدہ ہوں، مکان میں الگ الگ کمرے، غسل خانہ اور بیت الخلاء موجود ہوں، جوان اولاد کی موجودگی میں مکمل پردے کا اہتمام ہو، ایک دوسرے کا آمنا سامنا نہ ہو اور گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ بھی نہ ہو تو مجبوری کی صورت میں اجنبیوں کی طرح ایک ہی مکان میں رہ سکتے ہیں، تاہم اگر پردے کا اہتمام ممکن نہ ہو یا فتنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی مکان میں رہنا جائز نہیں۔
الدرالمختار:(538/3،ط: دارالفكر) قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى. وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف. الشامية:(538/3،ط: دارالفكر) قوله: وفي المجتبى إلخ) حيث قال: والأفضل أن يحال بينهما في البيتوتة بستر إلا أن يكون فاسقا فيحال بامرأة ثقة، وإن تعذر فلتخرج هي وخروجه أولى اهـ ملخصا، وفيه مخالفة لما مر، فإن السترة لا بد منها كما عبر المصنف تبعا للهداية، وهو الظاهر لحرمة الخلوة بالأجنبية. (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط.