حلالہ اور طلاق مغلظہ

تین طلاق کے بعد حلالہ کیےبغیردوبارہ نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1555
معاملات / احکام طلاق / حلالہ اور طلاق مغلظہ

تین طلاق کے بعد حلالہ کیےبغیردوبارہ نکاح کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!!
رہنمائی فرمائیں
میری دوست کو اس کے شوہر نےتین طلاق دے دیں اور عدت کے دوران ہی اس نے اپنے شوہر سے دوبارہ فون پر بات چیت شروع کر دی اس کے ماں باپ نے اس کو بہت سمجھایا سختی بھی کی پر وہ نہیں مانی اور ماں باپ نے اس کو گھر سے نکال دیا اس کا سابقہ شوہر پہلے ہی اس کو واپس بلانا چاہتا تھا اور وہ بھی جانا چاہتی تھی ان دونوں نے کسی سے فتویٰ نکلوا کر نکاح کرلیا اور وہ واپس اس کے پاس چلی گئی ہے اور دونوں ساتھ رہ رہے ہیں بغیر حلالہ کے کیا یہ سہی ہے جو فتویٰ انہوں نے نکلوایا ہے اور نکاح پر ایک اور نکاح کرلیا کیا یہ جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد بیوی شوہر پر حرام ہو جاتی ہے، اور شوہر کو رجوع یا دوبارہ نکاح کاکوئی حق باقی نہیں رہتا ،نہ عدت کے دوران اور نہ ہی عدت کے بعد اور ایسی صورت میں شوہر کا بیوی سے رابطہ رکھنا ،دوبارہ نکاح کا انتظام کرنا یا نکاح کرکے اس کو اپنے ساتھ رکھنا حرام ہے اور اگر ازدواجی تعلق قائم کیا جائے تو وہ زنا کے حکم میں آتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں حلالہ شرعی کیے بغیر دوبارہ نکاح درست نہیں ،لہذا دونوں پر خوب توبہ و استغفار لازم ہے، اگر ابھی بھی دونوں ساتھ ہیں تو فورًا علیحدگی اختیار کریں،البتہ اگر مطلّقہ عدت گزارنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کرلے، پھر وہ دوسرا شخص اس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد از خود طلاق دے دے یا شوہر کا انتقال ہوجائے تو پھر عدت گزار کر پہلے شوہر سےدوبارہ نکاح کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(البقرۃ: 230:2)*
فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ .

*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(3/ 187،ط: دار الكتب العلمية)*
‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها ‌الأصلي ‌هو ‌زوال ‌الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1555کی تصدیق کریں