السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! طلاقِ رجعی، بائن اور مغلظہ میں فرق کیا ہے؟
طلاقِ رجعی میں شوہر ایک یا دو طلاق دینے کے بعد عدت کے دوران بغیر نئے نکاح اور نئے مہر کے اپنی بیوی سے رجوع کر سکتا ہے، اگر عدت گزر جائے تو دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا۔ طلاقِ بائن سے نکاح ختم ہو جاتا ہے،دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے شوہر کا عدت کے دوران یا عدت کے بعد صرف رجوع کرنا کافی نہیں، بلکہ اگر دوبارہ ازدواجی زندگی اختیار کرنا چاہیں تو عورت کی رضامندی، نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا ہوگا۔ جب طلاقوں کی تعداد تین تک پہنچ جائے تو اسے طلاقِ مغلظہ کہا جاتا ہے، اس صورت میں شوہر کو نہ عدت کے دوران رجوع کا حق رہتا ہے اور نہ ہی عدت کے بعد سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہوتی ہے، البتہ اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شرعی طور پر صحیح نکاح کرے، اس نکاح میں حقیقی ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر دوسرا شوہر طلاق دے دے یا وفات پا جائے اور عورت اس کی عدت بھی پوری کر لے تو اس کے بعد پہلے شوہر سے آپس کی رضامندی، نئے مہر اور دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
القرآن الکریم:(البقرۃ: 230:2)* فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ . *الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر)* وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. *ایضاً:(471/1،ط:دارالفکر)* وتنقطع الرجعة إن حكم بخروجها من الحيضة الثالثة إن كانت حرة. *الھدایة: (257/2، ط: دار احیاء التراث العربی)* "وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها " لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله".