بینک میں ڈیوٹی کرنا کیسا ہے؟ آیا UBL بینک میں ڈیوٹی کرنا مطلقاً ناجائز ہے یا جواز کی کچھ صورتیں ہیں ؟
واضح رہے کہ سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، ناجائز اور حرام ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، البتہ ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو جائز ہے، تاہم احتیاط بہتر ہے۔ اگر بینک اسلامی ہو، یعنی سودی معاملات نہ کرتا ہو تو اس کے کسی بھی شعبہ میں ملازمت کرنا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے ۔ لہذا جو بھی بینک سودی معاملات کرتا ہے اس کا حکم سودی بینک کا ہے اور جو بینک سودی معاملات نہیں کرتا اس کا حکم اسلامی بینک کا ہے۔
*القرأن الكريم :(البقرة:/2 278،279)* يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ، فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ *ایضاً: [البقرة:/2 275]* وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ *صحيح مسلم: (5/ 50، رقم الحديث : 105 - (1597)، ط: دارطوق النجاة )* عن عبد الله قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله. قال: قلت: وكاتبه وشاهديه، قال: إنما نحدث بما سمعنا . *الشامية :(5/ 166، ط: دارالفكر)* (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به .