السلام علیکم مفتی صاحب! اگر کوئی عورت حاملہ ہو تو کیا وہ اپنے کسی قریبی عزیز کی میت دیکھنے جا سکتی ہے؟ کیا غسل دی جانے والی میت کو دیکھنا جائز ہے یا یہ بدعت ہے؟ نیز کیا حاملہ عورت کے میت دیکھنے یا غسلِ میت کی جگہ پر جانے سے بچے پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے؟
واضح رہے کہ حاملہ عورت میت کے گھر تعزیت کے لیے جا سکتی ہے، عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ حاملہ عورت کے میت کے گھر جانے سے اسے یا اس کے ہونے والے بچے کو نقصان پہنچتا ہے، اس کی شریعت میں کوئی اصل نہیں۔ یہ محض بدشگونی اور توہم پرستی ہے، جو شرعاً مذموم ہے، لہٰذا ایسے بے بنیاد عقائد سے اجتناب کرنا چاہیے۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5707،ط:دار طوق النجاۃ)* وقال عفان حدثنا سليم بن حيان حدثنا سعيد بن ميناء قال سمعت أبا هريرة يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم «لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر وفر من المجذوم كما تفر من الأسد. *فيض القدير: (3/ 32،ط:المكتبة التجارية الكبرى)* 2672 - (إن كان الشؤم) ضد اليمن مصدر تشاءمت وتيمنت قال الطيبي: واوه همزة خففت فصارت واوا ثم غلب عليها التخفيف ولم ينطق بها مهموزة (في شيء) من الأشياء المحسوسة حاصلا (ففي الدار والمرأة والفرس) يعني إن كان للشؤم وجود في شيء يكون في هذه الأشياء فإنها أقبل الأشياء له لكن لا وجود له فيها فلا وجود له أصلا ذكره عياض أي إن كان في شيء يكره ويخاف عاقبته ففي هذه الثلاث قال الطيبي: وعليه فالشؤم محمول على الكراهة التي سببها ما في الأشياء من مخالفة الشرع أو للطبع.