السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک عورت جو کہ کسی دکان پر چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی جاتی ہے، اس کے چہرے سے نقاب کھینچ کر بے پردہ کرنا اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ وضاحت کر دیجئے۔ دین اس بارے میں کیا کہتا ہے ؟
واضح رہے کہ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا ہے، اسی لیے اس کے لیے پردے کا اہتمام ضروری قرار دیا ہے، عورت کا اصل مقام گھر ہے اور اسے بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے، اگر کسی شرعی یا طبعی ضرورت کے تحت باہر جانا پڑے تو لازم ہے کہ وہ مکمل پردے کے ساتھ نکلے، یعنی بڑی چادر یا برقعہ کے ذریعے اپنے پورے جسم کو ڈھانپ لے، فتنہ و فساد کے اس دور میں علما نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عورت اپنا چہرہ اور ہاتھ بھی چھپائے، تاکہ کسی قسم کی بے پردگی اور فتنہ کا دروازہ نہ کھلے، عورت کا خود بےپردگی کرنا یا کسی اور کا عورت سے زبردستی بے پردگی کروانا ناجائز اور حرام ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چوری کرتے ہوئے پکڑی جانے والی عورت کا نقاب اتار کر بے پردہ کرنا اور ویڈیو بنانا جائز نہیں ۔
*القرآن الکریم:(الاحزاب:59:33)* يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا. *مختصر تفسير ابن كثير:(114/2،ط:دار القرآن الكريم)* قال ابن عباس: أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوهن من فوق رؤوسهن بالجلابيب ويبدين عينا واحدة، وقال محمد بن سيرين: سألت عبيدة السلماني عن قول الله عز وجل: ﴿يدنين عليهن من جلابيبهن﴾ فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى، وقال عكرمة: تغطي ثغرة نحرها بجلبابها تدنيه عليها، *تفسير المراغي:(37/22،ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابى)* وعن أم سلمة قالت: لما نزلت هذه الآية (يدنين عليهن من جلابيبهن) خرج نساء الأنصار كأن رءوسهن الغربان من السكينة، وعليهن أكسية سود يلبسنها. *فتح باب العناية:(217/1،ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم)* (والحرة) أي وعورة الحرة (بدنها) أي جميع أعضائها لقوله عليه الصلاة والسلام: «المرأة عورة». رواه الترمذي وصححه، وفي رواية النسائي: «الحرة».