شیعہ لڑکے سے نکاح اور باپ کا کسی بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

فتوی نمبر :
1019
معاملات / /

شیعہ لڑکے سے نکاح اور باپ کا کسی بیٹے کو جائیداد سے محروم کرنا

مفتی صاحب! آپ کیسے ہیں؟
مفتی صاحب! میرے دادا ابو نے اپنی بیٹی کا تقریباً چار سال پہلے نکاح ایک شیعہ مرد سے کیا تھا۔ میرے ابو نے دادا ابو سے کہا کہ وہ شخص شیعہ ہے، تو دادا ابو نے کہا کہ وہ شخص شیعہ نہیں ہے۔ اس کے بعد کچھ وقت گزرا تو دادا ابو نے کہا کہ وہ شخص مسلمان ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھنا تھا کہ میرے دادا ابو مسلمان ہیں یا نہیں؟

میرے دادا ابو پی ٹی سی ایل میں سرکاری ملازم تھے۔ انہیں فری میں پی ٹی سی ایل والوں نے گھر اور گھر میں فری ہیٹر (جس سے آگ نکلتی ہے) اور اس کے علاوہ اور چیزیں بھی دی تھیں، اور فری میں دوائیاں بھی دیتے تھے۔ دادا ابو پی ٹی سی ایل والوں سے جھوٹ کہتے تھے کہ ہیٹر خراب ہو گیا ہے تو وہ نیا ہیٹر لے آتے، حالانکہ ہیٹر خراب نہیں ہوتا تھا۔ اور دادا ابو دفتر سے اپنی خالہ کا کہتے تھے کہ ان کے لیے دوائی دے دو، تو وہ دے دیتے اور دادا ابو لے جاتے، حالانکہ دادا ابو کی خالہ نہیں ہے۔

اور دادا ابو نے لوگوں کو پیسے دیے ہیں قرض کے طور پر، لیکن وہ نفع مانتے ہیں، نقصان نہیں مانتے (یعنی سود)۔ اور دادا ابو نے میرے امی ابو کو اپنے گھر سے تقریباً پندرہ سال پہلے نکال دیا تھا، اور دادا ابو کے چار بیٹے ان کے ساتھ ہیں، انہیں نہیں نکالا۔ اور چاروں بیٹوں میں سے تین بیٹوں کے بھی بچے ہیں، انہیں اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے، لیکن مجھے، میری بہنوں اور امی ابو کو نہیں رکھتے۔ یہ اتنا بڑا حق مارا ہے۔

اور دادا ابو کے گھر میں سولر لگے ہوئے ہیں، دادا ابو نے سولر میں سب سے زیادہ پیسے دیے ہیں، لیکن استعمال اتنا نہیں کرتے، سولر کو چچا اور ان کے بچے استعمال کرتے ہیں۔ اور مجھے دادا ابو نے سولر کے پیسے نہیں دیے، جبکہ ان کے دوسرے پوتے سولر استعمال کرتے ہیں، یہ میرا حق انہوں نے مارا ہے۔

اور میں دادا ابو سے جھوٹ کہتا ہوں کہ مجھے فلاں چیز کے لیے پیسے چاہییں، تو وہ دے دیتے ہیں۔ لیکن اگر سچ بولوں کہ میرا اس چیز میں حق بنتا ہے، تو وہ نہیں دیتے۔ مثلاً اگر میں کہوں کہ کالج میں داخلہ لینا ہے، اتنے پیسے دے دیں، تو وہ دے دیتے ہیں، لیکن اگر یہ کہوں کہ اس چیز میں میرا حق ہے، تو وہ نہیں دیتے۔ تو یہ پیسے میرے لیے جائز ہیں یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1) اگر کوئی شخص قرآن مجید میں تحریف، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدا ہونے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی کا عقیدہ رکھتا ہو، یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرتا ہو یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتا ہو، یا بارہ اماموں کی امامت من جانب اللہ مان کر ان کو معصوم مانتا ہو، یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں’’بدا‘‘کا عقیدہ رکھتا ہو تو ایسا شخص اسلام کے بنیادی عقائد کی مخالفت کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہوگااور ایسے شخص کے ساتھ مسلمان کا نکاح جائز نہیں ہوگا۔

پوچھی گئی صورت میں آپ کے دادا کا اپنی بیٹی کا نکاح مذکورہ عقائد کے حامل شیعہ سے کرانا ناجائز اور حرام ہے اور نکاح سرے منعقد ہی نہیں ہوا۔آپ کے دادا کا یہ عمل حرام ہے اوران پر سچے دل سے توبہ واستغفار لازم ہے، تاہم وہ اس نکاح کرانے سے ایمان سے خارج نہیں ہوں گے، وہ مسلمان ہی ہیں۔


2) والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کے خود مالک و مختار ہوتے ہیں اور اس میں جیسے چاہیں تصرف کرسکتے ہیں، ان سے کسی قسم کے مطالبے کا حق اولاد کو حاصل نہیں ہوتا اور نہ ہی والدین کی زندگی میں شرعی طور پر میراث تقسیم کی جاسکتی ہے، البتہ اگر والدین اپنی مرضی سے اپنی زندگی میں اولاد کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو یہ تقسیم ”ہبہ“(گفٹ) کہلائے گی، جس کے لیے ضروری ہے کہ جتنا حصہ بیٹے کو دیا جائے اتنا ہی حصہ بیٹی کو بھی دیا جائے۔

لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے دادا زندہ ہیں تو وہ جس بیٹے کو جتنا مال دینا چاہتے ہیں ان کو اختیار ہے، لیکن کمی زیادتی کرنا مناسب نہیں ،آپ کا اپنے دادا سے جھوٹ بول کر پیسے لینا جائز نہیں، کیونکہ دادا کے مال میں آپ کا حق نہیں ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخارى:(رقم الحديث:2586،ط:دارطوق النجاة)
عن النعمان بن بشير : «أن أباه أتى به إلى رسول الله ﷺ فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما، فقال: أكل ولدك نحلت مثله، قال: لا، قال:فارجعه.

الشامية:(444/4،ط:دارالفكر)
(قوله: متى وقف) أي على أولاده لأنه منشأ الجواب المذكور كما تعرفه، وبه يظهر فائدة التقييد بقوله حال صحته (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى، وفي التتارخانية معزيا إلى تتمة الفتاوى قال: ذكر في الاستحسان في كتاب الوقف، وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في العطايا والعدل في ذلك التسوية بينهم في قول أبي يوسف وقد أخذ أبو يوسف حكم وجوب التسوية من الحديث، وتبعه أعيان المجتهدين، وأوجبوا التسوية بينهم وقالوا يكون آثما في التخصيص وفي التفضيل.

الشامية:(46/3،ط: دارالفكر)
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
2025-09-29
62
فتوی نمبر 1019کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149