اثنا عشری شیعہ کی نوکری، تنخواہ اور تحائف کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
996
عقائد / /

اثنا عشری شیعہ کی نوکری، تنخواہ اور تحائف کا شرعی حکم

سوال یہ کہ اثنا عشری شیعہ کے گھروں میں کام کرنا یا ان کے ماتحت ہو کر کام کرنا، جبکہ معاوضہ یا تنخواہ وغیرہ ان کے ہی مال میں سے ملے تو کیا کام کرنا جائز ہے؟ تنخواہ وصول کرنا جائز ہے ؟ ان کے دیے ہوئے تحفے وغیرہ لینا جائز ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اثنا عشری شیعہ کی ملازمت اگر جائز امور پر مشتمل ہو تو اسے اختیار کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اگر اس کے پاس نوکری کرنے سے اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ملازمت اور تحفہ قبول کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

*المبسوط للسرخسي:(16/ 56،ط: دار المعرفة)*
«‌فإن ‌استأجر ‌الذمي ‌أو ‌المستأمن مسلما لخدمته حرا، أو عبدا فهو جائز، ولكن يكره للمسلم خدمة الكافر لما فيه من معنى الذل، وليس للمؤمن أن يذل نفسه، ولكن هذا النهي لمعنى وراء ما به يتم العقد.

*بدائع الصنائع :(4/ 189،ط: دار الكتب العلمية)*
ولو ‌استأجر ‌ذمي ‌مسلما ليخدمه ذكر في الأصل أنه يجوز وأكره للمسلم خدمة الذمي أما الكراهة فلأن الاستخدام استذلال فكأن إجارة المسلم نفسه منه إذلالا لنفسه وليس للمسلم أن يذل نفسه خصوصا بخدمة الكافر.وأما الجواز فلأنه عقد معاوضة فيجوز كالبيع.

*الهندية:(4/ 449،ط:دارالفكر)*
إذا استأجر رجلا ليحمل له خمرا فله الأجر في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا أجر له وإذا ‌استأجر ‌ذمي ‌مسلما ليحمل له خمرا ولم يقل ليشرب أو قال ليشرب جازت له الإجارة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
46
فتوی نمبر 996کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149