السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! کیا حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اماں فاطمہ نہیں کہہ سکتے؟
کیا اماں کا صیغہ صرف امہات المؤمنین کے لیے مخصوص ہے ؟
واضح رہے کہ ’’امہات المؤمنین‘‘ (مؤمنین کی مائیں) کا لقب صرف رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے ساتھ خاص ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’النبی أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم‘‘ (الاحزاب: 6) ’’ایمان والوں کے لیے نبی ﷺ ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی بیویاں امت کے لیے بمنزلہ ماں ہیں، مگر یہ ماں بننا نسبی یا حقیقی اعتبار سے نہیں، بلکہ احترام، تعظیم اور ان کے ساتھ نکاح کے ہمیشہ کے لیے حرام ہونے کے پہلو سے ہے۔
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ یہ خصوصیت صرف ازواجِ مطہرات کی ہے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کی بیٹیوں مثلاً سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کو ’’امہات المؤمنین‘‘ کہنا درست نہیں۔
*تفسير ابن كثير: (6/ 159،ط:دار ابن الجوزي)*
وقال تعالى: {وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ} أي: في الحرمة والاحترام، والتوقير والإكرام والإعظام،ولكن لا تجوز الخلوة بهن ولا ينتشر التحريم إلى بناتهن وأخواتهن بالإجماع، وإِن سمى بعض العلماء بناتهن أخوات المؤمنين كما هو منصوص الشافعي رضي الله عنه في (المختصر)، وهو من باب إطلاق العبارة لا إثبات الحكم.
*الموسوعة الفقهية الكويتية:(264/6،ط:دارالسلاسل)*
يؤخذ من استعمال الفقهاء أنهم يريدون بـ " أمهات المؤمنين " كل امرأة عقد عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم ودخل بها، وإن طلقها بعد ذلك على الراجح.
*معجم المناهي اللفظية:(ص:143،ط:دارالعاصمة)*
من خصوصيات زوجات النبي عليه الصلاة والسلام، أنهن أمهات المؤمنين، قال الله تعالى: {النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم وأزواجه أمهاتهم} فكل واحدة منهن - رضي الله عنهن - يصدق عليها أنها: ((أم المؤمنين)) .
فهن أمهات المؤمنين في الاحترام، والإكرام، وحرمة الزواج بهن بعده - صلى الله عليه وسلم -، وكما لا يشاركهن أحد في هذه الخصوصية، فلا يشاركهن أحد في إطلاق هذا اللقب.