نجاسات اور پاکی

مذی لگے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
982
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

مذی لگے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال یہ ہے کہ شہوت سے مذی کے چند قطرے اگر ملبوس کپڑے میں لگ جائے اور بندہ اسی کپڑے میں وضو کر کے نماز ادا کر لیں تو کیا اس بندے کی نماز ٹھیک ہوگی یا نہیں وضاحت فرما دیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مذی نجاست غلیظہ ہےاوراگر وہ پھیلاؤ میں 5.94 سینٹی میٹر (یعنی ایک روپے کے بڑے سکے کے بقدر ) معاف ہےاور معاف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر دھوئے بغیر بھی نماز پڑھ لی تو نماز ہو جائے گی، لیکن علم ہوتے ہوئے اسے دھوئے بغیر نماز نہیں پڑھنی چاہیے اور اگر ذکرکردہ مقدارسےزائدہوتوایسے کپڑے میں نمازنہیں ہوگی۔

حوالہ جات

*الدر المختار مع ردالمحتار: (318/1،ط: دار الفكر)*
(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض، والعبرة لوقت الصلاة لا الاصابة على الاكثر. نهر (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في ‌رقيق ‌من ‌مغلظة كعذرة) آدمي،وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ ... (وعفي دون ربع) جميع بدن و (ثوب) ولو كبيرا هو المختار، ذكره الحلبي، ورجحه في النهر على التقدير بربع المصاب كيد وكم وإن قال في الحقائق وعليه الفتوى (من) نجاسة (مخففة كبول مأكول) ومنه الفرس، وطهره محمد (وخرء طير) من السباع أو غيرها (غير مأكول) وقيل طاهر وصحح،ثم الخفة إنما تظهر في غير الماء فليحفظ.

*حاشية الطحطاوي علی مراقی الفلاح:(440/1،ط: دار الكتب العلمية)*
كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت وأما بعده فندباً.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 982کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --