عاریتا لی ہوئی زمین کسی کو کرائے پر دینا

فتوی نمبر :
951
معاملات / مالی معاوضات /

عاریتا لی ہوئی زمین کسی کو کرائے پر دینا

مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو عاریتا زمین دی اب یہ دوسرا شخص اس کو آگے کسی کو کرایہ پر دے سکتاہے اور یہ اجارہ پرقیاس کیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں عاریت ایک امانت ہے لہذا اگر کسی شخص نے دوسرے کو زمین عاریتا (یعنی بغیر معاوضہ کے استعمال کے لیے) دی ہے تو صرف اس شخص کو ذاتی طور پر استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے، اصل مالک کی اجازت کے بغیر آگے کسی کو دینا یا اس سے کسی قسم کا مالی فائدہ اٹھانا درست نہیں۔

حوالہ جات

*الشامية:(679/5،ط: دارالفكر)*
الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤجر ولا ترهن، والمستأجر يؤاجر ويعار ويودع ولم يذكر حكم الرهن

*الهندية:(465/5،ط: دارالفكر)*
ثم الوديعة لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر كذلك الرهن ليس للمرتهن أن يؤاجر الرهن، وإذا آجر بغير إذن الراهن، وسلمه إلى المستأجر، فإن هلك في يد المستأجر فالراهن بالخيار إن شاء ضمن المرتهن قيمته وقت التسليم إلى المستأجر، وتكون رهنا مكانه.

*البحر الرائق:(275/7،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وفي الخلاصة الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤجر ولا ترهن وإن فعل شيئا منها ضمن والمستأجر يؤجر ويعار ويودع ولم يذكر حكم الرهن وينبغي أن يرهن

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
82
فتوی نمبر 951کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --