آمدنی و مصارف

بینک سے ملنے والے سود کا حکم

فتوی نمبر :
938
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بینک سے ملنے والے سود کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتی صاحب !
ایک صاحب غیر مسلموں کی کمپنی میں کام کرتے ہیں وہاں انھیں سالانہ بونس ملتا ہے لیکن وہ کمپنی والے بونس ایک سال پہلے نکال کر بینک میں رکھوا دیتے ہیں سال پورا ہونے پر نکال کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تمھارا اصل بونس ہے اور یہ سود پر حاصل شدہ رقم ہے ملازمین کے لیے کیا حکم ہیں وہ سود پر حاصل شدہ منافع استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی بینکوں میں پیسے رکھ کر حاصل ہونے والا نفع سود ہے اور شریعت میں سودلینا، دینا حرام اور ناجائز ہے، لہذا سودی بینک اکاؤنٹ میں موجود اصل رقم مالک کے لیے حلال ہے مگر اس پر ملنے والا سود حلال نہیں۔
سود کو وصول ہی نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر کسی نے وصول کرلیا تو اسے ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب کو دینا لازم ہے تاکہ اس حرام رقم سے خلاصی حاصل ہو خود استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں کمپنی کے ملازمین کے لیے بونس پر ملنے والی زائد سودی رقم لینا ناجائز ہے۔

حوالہ جات

*إعلاء السنن:(512/14،ط:ادارۃالقرآن)*
عن علي أمير المؤمنين رضي الله عنه مرفوعا: كل قرض جر منفعة فهو ربا ... وقال الموفق: وكل قرض شرط فيه الزيادة فهو حرام بلا خلاف."

*الشامية:(166/5،ط: دارالفکر)*
"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام]
(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أَي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن الْبحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإِن لم يكن النفع مشروطا في الْقرض، فعلي قول الْكرخي لا بأْس به ويأْتي تمامه."

*ایضاً فیھا: (1/ 658،ط:دارالفکر)*
قال ‌تاج ‌الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
55
فتوی نمبر 938کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --