بستی میں نماز جمعہ کے شرائط

فتوی نمبر :
936
عبادات / نماز /

بستی میں نماز جمعہ کے شرائط

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں جامع مسجد ہے جس میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتی جمعہ کے شراءط میں یہ ہے وہاں انسان اپنی حاجت پورا کرے جیسے بازار میدان وغیرہ ہو اب ایا اس میں جمعہ کی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جمعہ صحیح ہونے کے لیےدرج ذیل شرائط کا پیا جانا ضروری ہے
1) ظہر کا وقت ہو ظہر سے پہلے یا بعد میں جمعہ جائز نہیں ۔
2)شہر اور مضافات شہرکا ہونا، اسی طرح قریہ کبیرہ کا ہونا، جہاں آبادی اور ضروری سہولیات موجود ہوں۔
3)جماعت بھی شرط ہے کہ کم از کم تین افراد امام کے علاوہ موجود ہوں۔
4)نمازِ جمعہ سے پہلے دو خطبے دینا ضروری ہے۔
5)نمازِ جمعہ کے لیے عام اجازت ہونی چاہیے، یعنی سب مسلمان شریک ہو سکیں۔
قریہ کبیرہ اس بستی کو کہا جاتا ہے جہاں کی آبادی کم از کم ڈھائی،تین ہزار تک پہنچتی ہو اور وہاں تمام ضروریاتِ زندگی پوری ہوتی ہوں۔ مثلاً بازار ہو جس میں کپڑا، جوتا، غلہ، اور ڈاکٹر،ڈاکخانہ، تھانہ موجود ہو،جس بستی میں یہ شرائط نہ ہوں وہاں جمعے کی نماز نہیں ہوتی۔

پوچھی گئی صورت میں چونکہ یہ شرائط بستی میں موجود نہیں ہے، لہذا یہاں جمعہ کی نماز نہیں ہوگی،البتہ جن علاقوں میں پہلے سے جمعہ کی نماز ہورہی ہو اور اسے بند کرنے میں فتنے وفساد کا اندیشہ ہو تو وہاں جمعہ کے قائم کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

*بدائع الصنائع:(259/1،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما الشرائط التي ترجع إلى غير المصلي فخمسة في ظاهر الروايات، المصر الجامع، والسلطان، والخطبة، والجماعة، والوقت.
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها.

*الشامية:(137/2،ط: دارالفكر)*
ويشترط لصحتها) سبعة أشياء:الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء مجتبى لظهور التواني في الأحكام وظاهر المذهب أنه كل موضع له أمير وقاض
والحد الصحيح ما اختاره صاحب الهداية أنه الذي له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود وتزييف صدر الشريعة له عند اعتذاره عن صاحب الوقاية حيث اختار الحد المتقدم بظهور التواني في الأحكام مزيف بأن المراد القدرة على إقامتها على ما صرح به في التحفة عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه أو علم غيره يرجع الناس إليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح اهـ إلا أن صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لأن الغالب أن الأمير والقاضي الذي شأنه القدرة على تنفيذ الأحكام وإقامة الحدود لا يكون إلا في بلد كذلك.

*کفایت المفتی:(239/3،ط:دارالاشاعت)*
"حنفی مذہب کے موافق قریٰ یعنی دیہات میں جمعہ صحیح نہیں ہوتا اس لیے اگر کسی گاؤں میں پہلے جمعہ قائم نہیں ہے تو وہاں جمعہ قائم نہ کرنا چاہیے کیوں کہ حنفی مذہب کے موافق اس میں جمعہ صحیح نہ ہو گا اور فرضِ ظہر جمعہ پڑھنے سے ساقط نہ ہوگا لیکن اگر وہاں قدیم الایام سے جمعہ قائم ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں یا یہ کہ اسلامی حکومت میں بادشاہ اسلام کے حکم سے قائم ہوا تھا تو حنفی مذہب کی رو سے وہاں جمعہ صحیح ہوتا ہے اس لیے بند کرنا درست نہیں یا یہ کہ بادشاہ اسلام کے حکم سے قائم ہونا ثابت نہیں یا یہ معلوم ہے کہ مسلمانوں نے خود قائم کیا تھا مگر ایک زمانہ دراز سے پڑھا جاتا ہے اس صورت میں حنفی مذہب کے اصول کے موافق تو اسے بند کرنا چاہیے یعنی بند کرنا ضروری ہے لیکن چوں کہ عرصہ دراز کے قائم شدہ جمعہ کو بند کر دینے میں جو فتنے اور مفاسد پیدا ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے اس مسئلہ میں حنفیہ کو شوافع کے مذہب پر عمل کر لینا جائز ہے اور جب کہ وہ شوافع کے مذہب پر عمل کر کے جمعہ پڑھیں تو ظہر ساقط نہ ہونے کے کوئی معنی نہیں مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور مفاسد لازمہ عمل بمذہب الغیر کے لیے وجہ جواز ہیں۔"

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
56
فتوی نمبر 936کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --