کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ہم سے دوہزار پینٹ کے دانے خریدتا ہے بغیر چھانٹی کے دو مہینے کے ادھار پر، پھر خریدنے کے بعد وہ ہمارے گودام کے اندر اس کو چھانٹتا ہے، یا اپنے گودام لے جانے کےبعد چھانٹتا ہے اور جو پینٹ اس کے لیے مناسب نہ ہو تو وہ ہمیں کچرا کی صورت میں واپس مثلا بیس روپے فی دانہ یا کلو کے حساب سے کم قیمت میں بیچتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اچھا والا مال ادھار پر ہم سے خرید کر، پھر اس میں جو کمزور دانے نکلتے ہیں، وہ ہمیں نقد پر کم قیمت میں بیچتا ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ پہلے اس نے ہم سے مال ادھار میں خریدا، پھر ہمارے ہی گودام میں وہ اسی مال کو نقد قیمت پر ہمیں واپس بیچتا ہے، اب یہ معاملہ شرعاً جائز ہے؟
اگر جائز نہیں تو جواز کی کیا صورت ہوگی ؟
اگر کوئی شخص ایک چیز دوسرے کو ادھار بیچ دے، پھر وہی چیز اسی شخص سے نقد کم قیمت پر قیمت وصول کرنے سے پہلے واپس خرید لے تو اسے بیع عینہ کہتےہیں، جو شرعاً ناجائز ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا بیچی ہوئی پینٹوں کو کم قیمت پر واپس خریدنا ناجائز ہے۔
اس کی متبادل صورت یہ ہے کہ خریدار ادھار چیز لے کر بیچنے والے کو واپس نہ بیچے، بلکہ کسی اور کو فروخت کر دے، پھر گودام والے اس تیسرے شخص سے خرید لیں۔
*السنن الكبرى البيهقي:(516/5،ط:دار الكتب العلمية)*
أخبرنا أبو علي الروذباري، أنا محمد بن بكر، ثنا أبو داود، ثنا جعفر بن مسافر التنيسي، ح وأخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني، أنا أبو أحمد بن عدي، ثنا علي بن جعفر بن مسافر، ثنا أبي، ثنا حيوة بن شريح، عن إسحاق أبي عبد الرحمن أن عطاء الخراساني حدثه أن نافعا حدثه، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله ﷺ، يقول: إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر ورضيتم، بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم»
*الدر المختار:(416/1،ط: دارالفكر)*
(و) فسد (شراء ما باغ بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالاقل) من قدر الثمن الاول (قبل نقد) كل (الثمن) الاول.
*البناية شرح الهداية:(172/8،ط:دار الكتب العلمية)*
قال: ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني.
*فقه البيوع:(552/1،ط:مکتبہ معارف القرآن)*
وان باعه المشتري الاول السلعةالى ثالث ،ثم باعه ذلك الثالث الى الاول، فقديسمى"العينة الثلاثية"۔وهو موضع خلاف بين الفقهاء۔ فمذهب الحنفية انه ذلک جائز.