ذاتی کاروبار میں کسی اور کا حصہ

فتوی نمبر :
828
معاملات / مالی معاوضات /

ذاتی کاروبار میں کسی اور کا حصہ

السلام علیکم مولانا صاحب !
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میرے ساتھ ایک پارٹنر ہے جو کہ ہم مشترکہ ہے اس میں پیسے ہم نے لگائے ہیں تو اس کے علاوہ اگرمیں کوئی کام کرتا ہوں جس میں ہمارے دونوں کی انویسٹمنٹو نا ھوتو اس کا اس کی پرافٹ میں میرے پارٹنر کا حصہ ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر دو افراد کسی کاروبار میں شریک ہوں، اور دونوں نے اس میں سرمایہ لگایا ہو یا کوئی ایک سرمایہ لگائے اور دوسرا محنت کرے تو اس مشترکہ کاروبار کے منافع میں دونوں شریک ہوں گے، جیسا معاہدے میں طے ہو،لیکن اگر کوئی شریک، اپنے ذاتی سرمائے سے، کسی علیحدہ کاروبار یا تجارتی کام کا آغاز کرتا ہے، جس میں دوسرے شریک کا نہ کوئی سرمایہ ہو اور نہ ہی کسی قسم کی عملی شرکت تو شرعاً اس کام کے نفع میں دوسرے شریک کا کوئی حق نہیں، بشرطیکہ وہ کام اس مشترک کاروبار کے سرمایہ سے نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن الترمذي:(5/561،رقم الحديث: 1286،ط:دارالغرب الاسلامي)
حدثنا أبو سلمة يحيى بن خلف قال: أخبرنا عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، «أن النبي ﷺ قضى أن الخراج بالضمان.

الشامية:(299/4ط: دارالفكر)
وشرعا (عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح) جوهرة.
(وركنها في شركة العين اختلاطهما، وفي العقد اللفظ المفيد له).

مجمع الأنهر:(714/1،ط:دار إحياء التراث العربي)
وشرعا: هي عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح وشرعيتها بالسنة فإن النبي عليه الصلاة والسلام بعث والناس يباشرونها فقررهم عليها بإجماع الأمة والمعقول وهي أي الشركة طريق ابتغاء الفضل وهو مشروع بالكتاب وركنها في شركة العين اختلاطهما.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 828کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --