نجاسات اور پاکی

علاج کے لیے بڑے پیشاب والے مقام میں دوائی یا انگلی ڈالنے سے غسل کا حکم

فتوی نمبر :
465
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

علاج کے لیے بڑے پیشاب والے مقام میں دوائی یا انگلی ڈالنے سے غسل کا حکم

اگر کسی مرد یاعورت کو کسی مرض کی وجہ سے اپنی بڑی پیشاب والی جگہ میں یا اندر کے کچھ حصے تک انگلی کی مدد سے دوائی یا مرہم پہنچانے سے غسل واجب ہو تا ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ علاج کی غرض سے بڑے پیشاب کے مقام میں دوا ڈالنے یا انگلی داخل کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، بشرطیکہ اس سے انزال نہ ہو، لیکن اگر اس عمل کے دوران انزال ہو جائے تو غسل واجب ہو جائے گا، لہٰذا محض علاج یا دوا لگانے سے غسل لازم نہیں ہوتا ۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(28/1،ط: دارالفكر)*
(و) لا عند (إدخال أصبع ونحوه) كذكر غير آدمي وذكر خنثى وميت وصبي لا يشتهي وما يصنع من نحو خشب (في الدبر أو القبل) على المختار.

*فتح القدير لابن همام:(60/1،ط: دار الفكر)*
وفي إدخال الأصبع الدبر خلاف في إيجاب الغسل فليعلم ذلك (قوله ولنا أن الأمر بالتطهير يتناول الجنب) والجنابة في اللغة إنما تقال مع الشهوة فلا يتناول من خرج منه بلا شهوة فلا يوجب فيه حكما بنفي ولا إثبات.

*درر الحكام شرح غرر الاحكام:(19/1،ط: دار إحياء الكتب)*
(ولا) عند (إدخال أصبع ونحوه في الدبر ووطء بهيمة بلا إنزال) لقلة الرغبة كما مر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
70
فتوی نمبر 465کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --