مفتی صاحبان! ایک مسئلہ پوچھنا ہے، کہ اگر بندہ ناپاکی کی حالت میں ہو ،غسل نہ کیا ہو، تو کوئی چیز کھانا وغیرہ کھا سکتا ہے ؟یا غسل کر کے بعد میں کھائے؟
واضح رہے کہ جنابت کی حالت میں کھانا پینا، چلنا پھرنا، سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا شرعاً جائز ہے، البتہ کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونا اور کلی کرنا مستحب ہے۔ بغیر کلی کیے کھانا پینا مکروہ ہے۔
الدرالمختار: (1/ 175،ط : دارالفكر) (لا) قراءة (قنوت) ولا أكله وشربه بعد غسل يد وفم، ولا معاودة أهله قبل اغتساله . الهندية: (1/ 16،ط: دارالفكر) ولا بأس للجنب أن ينام ويعاود أهله قبل أن يتوضأ وإن توضأ فحسن وإن أراد أن يأكل أو يشرب فينبغي أن يتمضمض ويغسل يديه. كذا في السراج الوهاج.