نجاسات اور پاکی

شک کی بنیاد پر کپڑوں کی نجاست کا حکم

فتوی نمبر :
1201
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

شک کی بنیاد پر کپڑوں کی نجاست کا حکم

اگر کسی شخص کو اپنے کپڑوں کے ناپاک ہونے کا صرف شک ہو اور کوئی یقینی علامت یا نشانی نہ ہو تو کیا ان کپڑوں میں نماز پڑھنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کپڑوں کے ناپاک ہونے کا صرف شک ہو اور اس کی کوئی واضح علامت یا یقینی دلیل نہ ہو تو کپڑے پاک ہی سمجھے جائیں گے، ان کپڑوں میں نماز پڑھنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

*الشامیة:(1/ 151،ط:دارالفکر)*
شك إلخ) في التتارخانية: ‌من ‌شك ‌في ‌إنائه ‌أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن.

*بدائع الصنائع:(1/ 73،ط:دار الكتب العلمية)*
فلا نحكم بنجاسته بالشك على الأصل المعهود إن ‌اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
69
فتوی نمبر 1201کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --