کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص چوکیدار ہو، کسی کمپنی میں رات کے وقت اور کمپنی کے مالک نے مکمل بندوبست کیا ہے کمپنی کے دروازوں کا، یعنی تالا لگاتا ہو رات کے وقت اور چوکیدار کو کہتا ہے: آپ کمپنی کے اندر ہی رہو تو چوکیدار رات کو سو جاتا ہے۔ آیا یہ چوکیدار کے لیے جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ مالک کو پتہ ہے، کبھی کبھار ان کو کہتا ہے: آپ رات میں آرام کرتے ہو۔آیا شریعت کی رو سے اس کے لیے جائز صورت کی گنجائش ہو سکتی ہے یا نہیں؟ راہنمائی فرمائیں۔
ملازم پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے، لہٰذا رات کے وقت بطورِ گارڈ مقرر شخص کا بنیادی فریضہ بیدار رہ کر نگرانی کرنا ہے، اگر کمپنی کے قواعد کے مطابق ڈیوٹی کے دوران سونا منع ہو اور مالک کی اجازت بھی نہ ہو تو سونا درست نہیں ہوگا، البتہ اگر مالک کی طرف سے سونے کی اجازت ہو تو اس صورت میں سونے میں کوئی حرج نہیں۔
تبيين الحقائق:(134/5،ط:دار الكتاب الإسلامي) والخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، الشامية: (6/ 70،ط:دارالفکر) وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. (قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. (قوله ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة.