مفتی صاحب ! اگر کوئی جانور نقصان پہنچائے، بلی، کتا وغیرہ، جس کی وجہ سے چوٹ آ جائے تو ایسے جانور کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا ایسے جانور کو قتل کر سکتے ہیں؟
واضح رہے کہ جو جانور طبعی طور پر موذی ہوں اور عموماً خود ہی تکلیف پہنچانے میں ابتدا کرتے ہوں، جیسے سانپ اور بعض درندے وغیرہ، انہیں قتل کرنا جائز ہے، البتہ جو جانور عام طور پر موذی نہ ہوں، جیسے بلی وغیرہ، اگر وہ کسی پر حملہ آور ہو جائیں اور ان سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صرف اس مخصوص جانور کو قتل کرنا جائز ہے، تاہم قتل کرتے وقت ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جس سے اسے کم سے کم تکلیف پہنچے۔
صحيح البخاري: (رقم الحدیث:3314،ط:دار طوق النجاة) 3314 - حدثنا مسدد حدثنا يزيد بن زريع حدثنا معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال «خمس فواسق يقتلن في الحرم الفأرة والعقرب والحديا والغراب والكلب العقور. الهندية:(5/ 361،ط:دارالفكر) دقتل النملة تكلموا فيها والمختار أنه إذا ابتدأت بالأذى لا بأس بقتلها وإن لم تبتدئ يكره قتلها واتفقوا على أنه يكره إلقاؤها في الماء وقتل القملة يجوز بكل حال كذا في الخلاصة.