السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر بیوی نماز نہ پڑھے اور شوہر کی نافرمان ہو تو کیا مرد اس کو مار سکتا ہے؟
اگر بیوی نماز نہیں پڑھتی تو شوہر کو چاہیے کہ محبت، نرمی اور حکمت کے ساتھ اسے نماز کی اہمیت اور فضائل بتائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عظمت سمجھائے، خود بھی گھر میں سنت اور نوافل ادا کرے اور بیوی کو اپنے ساتھ نماز پڑھنے کی ترغیب دے، لیکن اگر وہ پھر بھی نافرمانی کرے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ بستر الگ کر دے، تاکہ عورت شوہر کی ناراضگی کو محسوس کرے، فقہائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ یہ جدائی صرف بستر تک محدود ہو، مکان چھوڑنے کی اجازت نہیں، ورنہ فساد بڑھ سکتا ہے، اگر اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو آخری درجے میں ایسی ہلکی مار کی اجازت ہے جس سے جسم پر نشان نہ پڑے، ہڈی نہ ٹوٹے، البتہ چہرے پر مارنا ہرگز جائز نہیں۔ ذکر کردہ حدود کی رعایت رکھتے ہوئے بیوی کو مارنے کی گنجائش ہے ۔
القرآن الکریم:(التحريم:6:66) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ." تفسير روح المعاني:(351/14،ط:دار الكتب العلمية) يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نارًا أي نوعا من النار وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ تتقد بهما اتقاد غيرها بالحطب، ووقاية النفس عن النار بترك المعاصي وفعل الطاعات، ووقاية الأهل بحملهم على ذلك بالنصح والتأديب،وروي أن عمر قال حين نزلت: يا رسول الله نقي أنفسنا فكيف لنا بأهلينا؟فقال: تنهوهن عما نهاكم الله عنه وتأمروهن بما أمركم الله به فيكون ذلك وقاية بينهن وبين النار» .وأخرج ابن المنذر والحاكم وصححه وجماعة عن علي كرم الله تعالى وجهه أنه قال في الآية: علموا أنفسكم وأهليكم الخير وأدبوهم، والمراد بالأهل على ما قيل: ما يشمل الزوجة والولد والعبد والأمة.واستدل بها على أنه يجب على الرجل تعلم ما يجب من الفرائض وتعليمه لهؤلاء، وأدخل بعضهم الأولاد في الأنفس لأن الولد بعض من أبيه. الشامية:(229/3،ط: دارالفكر) بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا. (قوله بل يستحب) إضراب انتقالي ط (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط (قوله أو تاركة صلاة) الظاهر أن ترك الفرائض غير الصلاة كالصلاة، وعن ابن مسعود لأن ألقى الله تعالى وصداقها بذمتي خير من أن أعاشر امرأة لا تصلي ط (قوله ومفاده) أي مفاد استحباب طلاقها وهذا قاله في البحر. وقال: ولهذا قالوا في الفتاوى: له أن يضربها على ترك الصلاة ولم يقولوا عليه مع أن في ضربها على تركها روايتين ذكرهما قاضي خان.