السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میری کتابوں کی دکانیں ہیں تو میرے پاس بعض دفعہ کسٹمر آتے ہیں، جس کتاب کا وہ مطالبہ کرتے ہیں وہ میرے پاس نہیں ہوتی، میں ان کے ساتھ خرید و فروخت اور معاملہ طے کر کے پیسے لے لیتا ہوں، پھر جا کر وہ کتاب ان کے لیے خرید لیتا ہوں، کیا یہ صحیح ہے؟
واضح رہے کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو یہ بیع درست نہیں، لہذا منقولی اشیا کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں۔ پوچھی گئی صورت میں اس طرح معاملہ کرنا جائز نہیں، البتہ اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ آپ گاہک سے یہ نہ کہیں کہ میں نے یہ کتابیں آپ کو بیچ دیں، بلکہ صرف بیچنے کا وعدہ کریں، یہ وعدہِ بیع شمار ہوگا، اس کے بعد آپ وہ کتابیں خرید کر وعدے کے مطابق اس کو فروخت کر دیں ۔ ایک دوسری درست صورت وکالت کی ہے، اس میں بیچنے والا خریدار کا وکیل بن کر مطلوبہ سامان خریدے، پھر وہ سامان گاہک تک پہنچائے اور اپنی طے شدہ مزدوری یا خدمت کی اجرت وصول کر لے، اس صورت میں نفع بیع کا نہیں، بلکہ خدمت اور محنت کا ہوگا، اس لیے یہ طریقہ بھی شرعاً جائز ہے۔
سنن الترمذي:(2/ 515،ط:دارالغرب الاسلامي) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ - حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ» وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ. الدر المختار:(561/4،ط: دارالفكر) ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح. الشامية: (5/ 73،ط: دارالفكر) قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز. ایضاً:(63/6،ط:دارالفكر) قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة. ایضاً:(560/4،ط:دارالفكر) وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (ويسلم الثمن أولا في بيع سلعة بدنانير ودراهم) إن أحضر البائع السلعة، (وفي بيع سلعة بمثلها)