مفتی صاحب! میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں اور کام کے دوران قرآن کریم کی تلاوت لگا کر بھی سنتا ہوں تو آیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ قرآنِ کریم کی تلاوت کے آداب میں سے یہ ہے کہ اسے غور سے سنا جائے، لہٰذا اگر کام کے دوران تلاوتِ قرآن کی طرف پوری توجہ رکھنا ممکن نہ ہو تو تلاوت نہ چلانا بہتر ہے، البتہ اگر کام کے دوران تلاوت کی طرف توجہ بھی ہو اور اسے غور سے سننا ممکن ہو تو تلاوت چلانے میں کوئی حرج نہیں۔
القرآن الکریم:(الأعراف:9، 204) {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ} الهندية: (5/ 316،ط:دارالفکر) لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا يقرأ في الأسواق، وفي موضع اللغو كذا في القنية. لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان. تبيين الحقائق: (1/ 58،ط:دار الكتاب الإسلامي) قال في القنية نقلا عن ظهير الدين التمرتاشي لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال ومن حرمة القرآن أن لا يقرأ في الأسواق ومواضع اللغو اهـ.