کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم ’’آسان عمرہ پیکیج‘‘ کے نام سے لوگوں کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں کہ ہر شخص ماہانہ پانچ ہزار روپے جمع کروائے اور اس طرح مسلسل 30 ماہ تک رقم جمع کرتا رہے۔ 30 ماہ مکمل ہونے کے بعد، ہر ماہ ایک شخص کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرے کے لیے بھیجا جائے گا۔ عمرے پر جانے والے شخص کے لیے جو مجموعی رقم خرچ ہوگی، وہ اس کی طرف سے جمع شدہ رقم سے پوری کی جائے گی اور اگر عمرے کے اخراجات جمع شدہ رقم سے زیادہ ہو جائیں تو اضافی رقم ٹریول ایجنسی اپنی طرف سے ادا کرے گی۔ کیا مذکورہ طریقے کے مطابق ’’آسان عمرہ پیکیج‘‘ شروع کرنا اور لوگوں سے ماہانہ قسطیں وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں ٹریول ایجنسی ہر ممبر کو مستقبل میں عمرہ کروانے کی خدمات فراہم کر رہی ہے، جس کے عوض اجرت ابتدا ہی میں اقساط کی صورت میں وصول کی جا رہی ہے۔ شرعی اعتبار سے یہ عقد اجارہ مضافہ کے حکم میں ہے، جو کہ جائز ہے، البتہ اس معاملے میں ضروری ہے کہ ٹریول ایجنسی پہلے ہی تمام ممبران کو اس اسکیم کی مکمل تفصیلات، خصوصاً عمرہ پیکیج میں شامل سہولیات، سفر کی مدت، رہائش، آمد و رفت اور دیگر متعلقہ امور کے بارے میں واضح طور پر آگاہ کر دے، تاکہ عقد میں جہالت نہ رہے اور بعد میں کسی قسم کا اختلاف یا نزاع پیدا نہ ہو۔
العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (2/ 130،ط:دارالمعرفة) (سئل) فيما إذا كان لزيد خان معلوم جار في ملكه بالوجه الشرعي فآجر مخزنا منه لعمرو مدة معلومة بأجرة معلومة ثم في أثناء مدة عمرو آجر المخزن المزبور من بكر مدة معلومة تالية لمدة عمرو المزبور مضافة إلى زمن مستقبل بأجرة معلومة عن المدة التالية فهل تكون الإجارة المضافة صحيحة؟ (الجواب) : نعم. مجلة الأحكام العدلية: (84،ط:نور محمد) (المادة 440) : الإجارة المضافة صحيحة وتلزم قبل حلول وقتها. بناء عليه ليس لأحد العاقدين فسخ الإجارة بمجرد قوله: ما آن وقتها.