احکام عمرہ

عمرہ میں قصر اور حلق سے پہلے احرام کھولنا

فتوی نمبر :
2438
عبادات / حج و عمرہ / احکام عمرہ

عمرہ میں قصر اور حلق سے پہلے احرام کھولنا

مفتی صاحب !
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے عمرہ کیا، لیکن حلق یا قصر کروانے سے پہلے احرام کھول دیا تو اب مجھ پر کیا کفارہ لازم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ عمرہ کے ارکان ادا کرنے کے بعد مرد کے لیے حلق (سرمنڈوانا) یا قصر (کم از کم ایک چوتھائی سر کے بال ایک پورے کے برابر کاٹنا) ضروری ہے اور عورت کے لیے سر کے کم از کم چوتھائی بالوں سے ایک پورے (انگلی کے تہائی حصہ) کے بقدر قصر کرنا ضروری ہے۔
پوچھی گئی صورت میں عمرہ ادا کرنےکےبعد حلق یاقصر کروانےسےپہلے احرام کھول دینے کی وجہ سے دم لازم آئے گا۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(516/2،ط: دارالفكر)*
(ثم قصر) بأن يأخذ من كل شعرة قدر الانملة وجوبا، وتقصير الكل مندوب، والربع واجب، ويجب إجراء الموسى على الاقرع وذي قروح إن أمكن وإلا سقط، ومتى تعذر أحدهما لعارض تعين الآخر.

*الشامية:(2/ 554،ط:دارالفكر)*
(أو حلق في حل بحج) في أيام النحر، فلو بعدها فدمان (‌أو ‌عمرة) ‌لاختصاص ‌الحلق بالحرم.
(قوله أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمكان، وهذا عندهما خلافا للثاني (قوله في أيام النحر) متعلق بحلق بقيد كونه للحج، ولذا قدمه على قوله أو عمرة فيتقيد حلق الحاج بالزمان أيضا، وخالف فيه محمد، وخالف أبو يوسف فيهما، وهذا الخلاف في التضمين بالدم لا في التحلل فإنه يحصل بالحلق في أي زمان أو مكان فتح. وأما حلق العمرة فلا يتوقت بالزمان إجماعا هداية، وكلام الدرر يوهم أن قوله في أيام النحر قيد للحج والعمرة، وعزاه إلى الزيلعي مع أنه لا إيهام في كلام الزيلعي كما يعلم بمراجعته (قوله فدمان) دم للمكان ودم للزمان ط (قوله لاختصاص الحلق) أي لهما بالحرم وللحج في أيام النحر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2438کی تصدیق کریں