السلام علیکم ! ہمارے گاؤں میں بہت لوگ غریب اور بے بس ہیں، لیکن بہت سے لوگ مالدار ہیں، ایک دو دفعہ عمرہ پر جا چکے ہیں، اب وہ اپنی طرف سے اپنے دوستوں کو عمرہ کیلیے بھیجتے ہیں، لیکن غریبوں کی مدد کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ شریعت کی رو سے مناسب عمل کونسا ہے ؟ دوسرے کو عمرہ کروانا یا علاقے کی غریبوں کی مدد کرنا؟ بہتر کیا ہے؟
اسلام نے نفلی عبادات کی بڑی فضیلت بیان کی ہے، نفلی عمرہ اور نفلی صدقہ، دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں، اس بارے میں فقہائے کرام کی مختلف آراء ہیں، بعض کے نزدیک نفلی عمرہ افضل ہے، کیونکہ اس میں مالی اور بدنی دونوں عبادتیں جمع ہوتی ہیں، جبکہ صدقہ صرف مالی عبادت ہے، بعض کے نزدیک غریب کی امداد افضل ہے۔ راجح اور زیادہ مضبوط رائے یہ ہے کہ اگر غریبوں، یتیموں اور دیگر ضرورت مند افراد کی کفالت اور مدد کے لیے مناسب ذرائع موجود ہوں اور ان کی بنیادی ضروریات پوری ہو رہی ہوں تو ایسے حالات میں نفلی حج و عمرہ کی ادائیگی زیادہ افضل اور باعثِ اجر ہے، البتہ اگر معاشرے میں ایسے افراد موجود ہوں جو بھوک، بیماری، بے سروسامانی یا شدید مالی تنگی کا شکار ہوں اور ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو تو اس وقت ان کی ضروریات پوری کرنے، ان پر خرچ کرنے اور نفلی صدقہ و خیرات کرنے کا اجر و ثواب نفلی حج و عمرہ سے بھی بڑھ کر ہے، لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ حالات، معاشرتی ضروریات اور ترجیحات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایسا عمل اختیار کرے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ نفع بخش اور بندگانِ خدا کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔
*مجمع الأنهر :(312/1،ط:دار إحياء التراث العربي)* الحج تطوعا أفضل من الصدقة النافلة حج الفرض أولى من طاعة الوالدين بخلاف النفل لا يتزوج المقتدر المأمور بالحج إذا كان وقت خروج أهل بلده فإن كان قبله جاز حج الغني أفضل من حج الفقير مكة أفضل من المدينة عند علمائنا والشافعي. *البحر الرائق:(334/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)* (قوله: فقالوا حج النفل أفضل من الصدقة) قال الرملي قال المرحوم الشيخ عبد الرحمن العمادي مفتي الشام في مناسكه وإذا حج حجة الإسلام فصدقة التطوع بعد ذلك أفضل من حج التطوع عند محمد والحج أفضل عند أبي يوسف وكان أبو حنيفة - رحمه الله - يقول بقول محمد فلما حج ورأى ما فيه من أنواع المشقات الموجبة لتضاعف الحسنات رجع إلى قول أبي يوسف اهـ.