مفتی صاحب! ایک سوال دریافت کرنا تھا:مثال کے طور پر چار بھائی یا چار دوست عمرہ کرنے گئے۔ انہوں نے سعی مکمل کرنے کے بعد ہوٹل آکر حلق/شیو کرنا شروع کیا۔ ان میں سے ایک شخص بیٹھ کر باقی تین افراد کے سر شیو کرنے لگا، جبکہ اس نے ابھی اپنا حلق نہیں کروایا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ: 1۔ کیا اس صورت میں صرف اسی شخص پر دم لازم ہوگا جس نے احرام کی حالت میں دوسروں کے بال مونڈے اور باقی تین افراد پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا؟ 2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ پہلے اس شخص نے اپنا سر خود ریزر سے صاف کرلیا، پھر بعد میں باقی تینوں کے بال مونڈے تو کیا اس صورت میں بھی اس پر دم لازم ہوگا یا نہیں؟ اور باقی تین افراد پر کوئی دم تو نہیں آئے گا؟
واضح رہے کہ عمرہ کے ارکان طواف اور سعی مکمل ہونے کے بعد عمرے یا حج کرنے والے ایک دوسرے کے بال خود بھی کاٹ سکتے ہیں اور کسی اور سے بھی کٹواسکتے ہیں، لہذا پوچھی گئی دونوں صورتوں میں کسی پر کوئی دم لازم نہیں۔
*مجمع الأنهر: (1/ 293،ط:دار إحياء التراث العربي)* (وكذا) يلزمه الصدقة (لو حلق أقل من ربع رأسه أو) أقل من ربع (لحيته أو حلق بعض) رقبته أو بعض (عانته أو) حلق (أحد إبطيه أو) حلق (رأس غيره) بأمره أو بغير أمره فعلى الحالق صدقة وعلى المحلوق دم.. *لباب المناسك:(154،ط:دار قرطبه)* وإذا حلق رأسه أو رأسَ غيره عند جواز التَّحلل لم يَلْزَمُه شيءٌ.