مفتی صاحب ! زندہ کیڑے کو کانٹے میں لگا کر مچھلی کا شکار کرنا کیسا ہے؟
زندہ کیڑے کو کانٹے میں لگا کر مچھلی کا شکار کرنا مکروہ ہے، اِس لیے کہ اِس میں ایک جاندار کو بلاوجہ تکلیف دینا پایا جاتا ہے، تاہم اِس طرح جو مچھلی شکار کی جائے گی، اُس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز اگر کیڑے کو کانٹے میں لگانے سے پہلے مار دیا جائے اور پھر کانٹے میں پرو دیا جائے تو اِس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
تبيين الحقائق:(297/5،ط: دارالكتاب الاسلامي) (قوله: في المتن وذبح ما لا يؤكل لحمه يطهر لحمه وجلده) قال في باب المياه من النهاية في هذه الرواية نوع ضعف والصحيح أن اللحم لا يطهر بالذكاة وكذا في معراج الدراية وغيرهما اهـ. (قوله: لأن أثر الذكاة في إباحة اللحم إلخ) قال فخر الإسلام في شرح الجامع الصغير اتفق أصحابنا في الحمار إذا ذبح أن لحمه طاهر وأنه لا يؤكل. اهـ. أتقاني في الكراهية. (قوله: فلا بد من الدباغ) أي ليحصل طهارة الجلد اهـ. (قوله: فإنه ينتفع به في غير الأكل) يعني في الاستصباح ودهن الجلد ونحوه. وکرہ الصید بالخراطیم حیۃ، وکذا بکل شيٍء فیہ الروح لما فیہ من تعذیب الحیوان۔ (إعلاء السنن ۱۷؍۲۰ کراچی)