معاملات / احکام نکاح / مہر

نکاح کے موقع پر دی جانے والی انگھوٹی مہر کے طور پر دینا

فتوی نمبر : 3179 0000-00-00 17 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مفتی صاحب ! ایک بندہ ہے ،اس کا نکاح ہونے والا ہے،وہ گفٹ کے طور پر انگوٹھی دینا چاہتا ہے، اب اسے حق مہر بنا سکے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح میں کم از کم مہر دس درہم مقرر ہے، اس سے کم مہر جائز نہیں، کم از کم مہر موجودہ حساب کے مطابق تقریباً دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، یعنی 30.618 گرام چاندی کے برابر ہے، چونکہ چاندی کی قیمت میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اس لیے مہر کی ادائیگی کے وقت مارکیٹ سے چاندی کی قیمت معلوم کرلینی چاہیے۔ پوچھی گئی صورت میں، اگر پہلے سے انگھوٹی اس لڑکی کو ہدیہ نہیں کی، بلکہ نکاح کے موقع پر ہی دینا چاہتا ہے اور اس کی قیمت دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، یعنی 30.618 گرام چاندی کے برابر ہے تو اس کو مہر بنایا جاسکتا ہے، البتہ پہلے سے منگیتر کو گفٹ میں دی گئی تو انگھوٹی کو مہر میں شمار کرنا جائز نہیں، بلکہ ایسی صورت میں نکاح کے موقع پر الگ سے مہر دینا ضروری ہے ۔

صحيح مسلم:(144/4،رقم الحديث:27-(1426)،ط:دار طوق النجاة) حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، أخبرنا عبد العزيز بن محمد ، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد . (ح)، وحدثني محمد بن أبي عمر المكي - واللفظ له -. حدثنا عبد العزيز ، عن يزيد ، عن محمد بن إبراهيم ، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه قال: «سألت عائشة زوج النبي ﷺ كم كان صداق رسول الله ﷺ؟ قالت: كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا. قالت: أتدري ما النش؟ قال: قلت: لا. قالت: نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله ﷺ لأزواجه ». المصنف لابن أبي شيبة:(493/3،ط:دار التاج) محمد بن فضيل، عن يحيى بن سعيد، قال: حدثني محمد بن إبراهيم، قال: «كان صداق بنات النبي ﷺ وصداق نسائه خمس مائة درهم» العناية شرح الهداية:(317/3،ط: دارالفكر) (وأقل المهر عشرة دراهم) وقال الشافعي: ما يجوز أن يكون ثمنا في البيع؛ لأنه حقها فيكون التقدير إليها ولنا قوله ﷺ «ولا مهر أقل من عشرة». الهندية:(302/1،ط: دارالفكر) أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية. بدائع الصنائع:(288/2،ط:دار الكتب العلميه) ويجب عقيب العقد بلا فصل لما ذكرنا أنه يجب بإحداث الملك، والملك يحدث عقيب العقد بلا فصل؛ ولأن المعاوضة المطلقة تقتضي ثبوت الملك في العوضين في وقت واحد وقد ثبت الملك في أحد العوضين وهو البضع عقيب العقد فيثبت في العوض الآخر عقيبه تحقيقا للمعاوضة المطلقة إلا أنه يجب بنفس العقد وجوبا موسعا، وإنما يتضيق عند المطالبة كالثمن في باب البيع أنه يجب بنفس البيع وجوبا موسعا، وإنما يتضيق عند مطالبة البائع.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تجدید نکاح میں مہر مقررکرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
حق مہر کو غیر یقینی مدت کے ساتھ مشروط کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح فارم پر دستخط کرتے ہوئے لڑکی کو مہر کا بتانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہر کے مہر ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جانے کی صورت میں مہر کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
افضل مہر اور مہر کی مقدار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مہر کی کم از کم مقدار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عورت کے حق مہر میں تصرف کا حق کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مقرر شدہ مہر کی پابندی اور نکاح فارم میں اضافے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
افضل مہر اور مہر کی مقدار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح کے موقع پر دی جانے والی انگھوٹی مہر کے طور پر دینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عورت کا مہر کے بدلے کوئی اور چیز لینا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نکاح میں مہرکی مقدار
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کا سونا بیچنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہر کا مرض الوفات میں بیوی سے مہر معاف کروانا