مفتی صاحب ! ایک بندہ ہے ،اس کا نکاح ہونے والا ہے،وہ گفٹ کے طور پر انگوٹھی دینا چاہتا ہے، اب اسے حق مہر بنا سکے گا یا نہیں؟
نکاح میں کم از کم مہر دس درہم مقرر ہے، اس سے کم مہر جائز نہیں، کم از کم مہر موجودہ حساب کے مطابق تقریباً دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، یعنی 30.618 گرام چاندی کے برابر ہے، چونکہ چاندی کی قیمت میں وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اس لیے مہر کی ادائیگی کے وقت مارکیٹ سے چاندی کی قیمت معلوم کرلینی چاہیے۔ پوچھی گئی صورت میں، اگر پہلے سے انگھوٹی اس لڑکی کو ہدیہ نہیں کی، بلکہ نکاح کے موقع پر ہی دینا چاہتا ہے اور اس کی قیمت دو تولہ ساڑھے سات ماشہ، یعنی 30.618 گرام چاندی کے برابر ہے تو اس کو مہر بنایا جاسکتا ہے، البتہ پہلے سے منگیتر کو گفٹ میں دی گئی تو انگھوٹی کو مہر میں شمار کرنا جائز نہیں، بلکہ ایسی صورت میں نکاح کے موقع پر الگ سے مہر دینا ضروری ہے ۔
صحيح مسلم:(144/4،رقم الحديث:27-(1426)،ط:دار طوق النجاة) حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، أخبرنا عبد العزيز بن محمد ، حدثني يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد . (ح)، وحدثني محمد بن أبي عمر المكي - واللفظ له -. حدثنا عبد العزيز ، عن يزيد ، عن محمد بن إبراهيم ، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه قال: «سألت عائشة زوج النبي ﷺ كم كان صداق رسول الله ﷺ؟ قالت: كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا. قالت: أتدري ما النش؟ قال: قلت: لا. قالت: نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله ﷺ لأزواجه ». المصنف لابن أبي شيبة:(493/3،ط:دار التاج) محمد بن فضيل، عن يحيى بن سعيد، قال: حدثني محمد بن إبراهيم، قال: «كان صداق بنات النبي ﷺ وصداق نسائه خمس مائة درهم» العناية شرح الهداية:(317/3،ط: دارالفكر) (وأقل المهر عشرة دراهم) وقال الشافعي: ما يجوز أن يكون ثمنا في البيع؛ لأنه حقها فيكون التقدير إليها ولنا قوله ﷺ «ولا مهر أقل من عشرة». الهندية:(302/1،ط: دارالفكر) أقل المهر عشرة دراهم مضروبة أو غير مضروبة حتى يجوز وزن عشرة تبرا، وإن كانت قيمته أقل، كذا في التبيين وغير الدراهم يقوم مقامها باعتبار القيمة وقت العقد في ظاهر الرواية. بدائع الصنائع:(288/2،ط:دار الكتب العلميه) ويجب عقيب العقد بلا فصل لما ذكرنا أنه يجب بإحداث الملك، والملك يحدث عقيب العقد بلا فصل؛ ولأن المعاوضة المطلقة تقتضي ثبوت الملك في العوضين في وقت واحد وقد ثبت الملك في أحد العوضين وهو البضع عقيب العقد فيثبت في العوض الآخر عقيبه تحقيقا للمعاوضة المطلقة إلا أنه يجب بنفس العقد وجوبا موسعا، وإنما يتضيق عند المطالبة كالثمن في باب البيع أنه يجب بنفس البيع وجوبا موسعا، وإنما يتضيق عند مطالبة البائع.