مفتی صاحب! ایک شخص اپنی مرض وفات میں اپنی بیوی سے حق مہر معاف کروائے، تو اس شخص کی وفات کے بعد اس کی بیوی ، یا بیوی کے ورثا میراث میں سے حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے ؟
مہر بیوی کا حق ہے، اس لیے اسے طلب کرنا، مؤخر کرنا یا معاف کرنا اسی کے اختیار میں ہے، اگر بیوی اپنی دلی رضامندی اور خوشی سے، بغیر کسی جبر و اکراہ کے، مہر معاف کردے تو مہر معاف ہوجاتا ہے اور شوہر پر اس کی ادائیگی لازم نہیں رہتی،البتہ شوہر کا بیوی کو مہر معاف کرنے پر مجبور کرنا ناجائز اور سراسر ظلم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر کے مرض وفات میں بیوی خوشی سے اپنا حقِ مہر معاف کردے تو معاف ہو جائے گا اور شوہر کی وفات کے بعد بیوی کا میراث میں مہر کا مطالبہ صحیح نہیں ہوگا،البتہ اگر بیوی سے زبردستی مہر معاف کروایا گیا تو یہ معاف نہیں ہوگا، اور بیوی کے لیے شوہر کے انتقال کے بعد میراث سے مہر کا مطالبہ کرنا جائز ہوگا ۔
القرآن الکریم:(النساء: 4:4) {وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً} بدائع الصنائع:(295/2،ط:دار الكتب العلمية) وأما بيان ما يسقط به كل المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة:منها: الفرقة بغير طلاق قبل الدخول بالمرأة وقبل الخلوة بها.....ومنها: الإبراء عن كل المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط، ومنها: الخلع على المهر قبل الدخول وبعده ثم إن كان المهر غير مقبوض سقط عن الزوج، وإن كان مقبوضا ردته على الزوج