مفتی صاحب!
میرے بھائی کا نکاح ہے مہر میں ایک لاکھ روپے لڑکی والوں کے اصرار کی وجہ سے لکھے گئے ہیں، لیکن ہم نے کہا کہ جب وسعت ہوئی تو دیں گے اور اگر وسعت نہ ہوئی تو مہر نہیں دیں گے، کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟ ایک دوست نے کہا یہ غلط ہے۔
واضح رہے کہ شرعاً کسی حق مہر کی ادائیگی کو ایسی غیر یقینی مدت سے مشروط کرنا درست نہیں ،ایسی شرط فاسد ہوتی ہے اور اس طرح کی شرط کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا، اس لیے بیوی مہر فوراً طلب کرنے کی حق دار رہتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا یہ کہنا کہ اگر وسعت ہوئی اور اور مال آیا تو مہر دوں گا، ورنہ نہیں، یہ شرط صحیح نہیں ہے اور عورت کو مطالبے کا حق بدستور حاصل ہے۔
*بدائع الصنائع:(288/2،ط:دار الكتب العلمية)*
فأما إذا كان مؤجلا بأن تزوجها على مهر آجل فإن لم يذكر الوقت لشيء من المهر أصلا بأن قال: تزوجتك على ألف مؤجلة، أو ذكر وقتا مجهولا جهالة متفاحشة بأن قال: تزوجتك على ألف إلى وقت الميسرة أو هبوب الرياح أو إلى أن تمطر السماء فكذلك؛ لأن التأجيل لم يصح لتفاحش الجهالة فلم يثبت الأجل ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: لا يجوز الأجل ويجب حالا كما إذا قال: تزوجتك على ألف مؤجلة.
*الدرالمختار:(707/5،ط: دارالفكر)*
(كما لا يصح) تعليق الإبراء عن الدين بشرط محض كقوله لمديونه: إذا جاء غد أو إن مت بفتح التاء فأنت بريء من الدين أو إن مت من مرضك هذا أو إن مت من مرضي هذا فأنت في حل من مهري فهو باطل؛ لأنه مخاطرة وتعليق (إلا بشرط كائن) ليكون تنجيزا كقوله لمديونه: إن كان لي عليك دين أبرأتك عنه، صح وكذا إن مت بضم التاء فأنت بريء منه أو في حل جاز وكان وصية خانية.