کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے ایک مرد سے شادی کی اس مرد نے اسے مہر کے طور پر ایک مکان دے دیا ہے ، جسے کرایہ پر دیا گیا ہے اور اب اس کا کرایہ اس کے سسرال والے وصول کرتے ہیں ، اور اس بارے میں اس عورت سے کوئی بات چیت نہیں ہوتی اس کی رضامندی نہیں دیکھی جاتی ، اور اب اس عورت کے سسرال والے اس سے یہ مکان لے کر اس کے بدلے اسے کچھ رقم دینا چاہتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ عقد کے نکاح کے وقت بطور مہر جو چیز عورت کو دی جائے وہ اس کی ملکیت بن جاتی ہے ، لہذا اب وہ چیز نہ اس کے رضامندی کے بغیر کوئی اس سے لے سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کوئی کمی کرسکتا ہے ۔
پوچھی گئی صورت میں یہ مکان اس عورت کا حق ہے اور اس کا کرایہ بھی اس عورت ہی کی ملکیت ہے ، اس کی رضامندی کے بغیر اس سے یہ مکان لینا جائز نہیں ۔
الشامية : (3/ 113، ط: دارالفكر)
(قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها. ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب.
الهندية: (1/ 313، ط: دارالفكر)
ولا بد في صحة حطها من الرضا حتى لو كانت مكرهة لم يصح ومن أن تكون مريضة مرض الموت هكذا في البحر الرائق.
الموسوعة الفقهية: (39/ 195، ط: وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية )
وللمرأة - سواء أكانت بكرا أم ثيبا - ولاية التصرف في مهرها بكل التصرفات الجائزة لها شرعا؛ ما دامت كاملة الأهلية؛ كما هو الشأن في تصرف كل مالك في ملكه؛ فلها أن تشتري به؛ وتبيعه؛ وتهبه لأجنبي أو لزوجها؛ وليس لأحد حق الاعتراض على تصرفها؛ كما ليس لأحد أن يجبرها على ترك شيء من مهرها لزوجها أو لغيره؛ ولو كان أباها أو أمها؛ لأن المالك لا يجبر على ترك شيء من ملكه؛ ولا على إعطائه لغيره.