اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا اور اسی حالت میں مر گیا تو کیا مرنے کے بعد بیوی سے مہر معاف کروایا جا سکتا ہے؟ اور اگر اس علاقے کا عرف بھی یہی ہو تو کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ مہر کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص مہر ادا کرنے سے پہلے فوت ہو جائے تو اس کے ترکے کی تقسیم سے قبل دیگر قرضوں کی طرح بیوی کا مہر بھی ادا کیا جائے گا۔ البتہ اگر عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے مہر معاف کر دے تو یہ شرعاً جائز ہے، لیکن زبردستی مہر معاف کروانا یا محض عرف و رواج کی بنا پر اسے ساقط سمجھ لینا درست نہیں، لہٰذا اگر دلی رضامندی سے مہر معاف نہ کیا گیا ہو تو اس کی ادائیگی شوہر کے وارثوں پر لازم ہوگی۔
*السنن الكبرى - البيهقي: (7/ 403، ط:دارالکتب العلمية)* «عن ابن جريج قال: سمعت عطاء، يقول: سمعت ابن عباس، سئل عن المرأة يموت عنها زوجها وقد فرض لها صداقا قال: " لها الصداق والميراث والله أعلم " *بدائع الصنائع: (2/ 295،ط:دارالکتب العلمية)* وأما بيان ما يسقط به كل المهر، فالمهر كله يسقط بأسباب أربعة:...«ومنها: الإبراء عن كل المهر قبل الدخول وبعده إذا كان المهر دينا لأن الإبراء إسقاط، والإسقاط ممن هو من أهل الإسقاط في محل قابل للسقوط يوجب السقوط،....«ومنها: هبة كل المهر قبل القبض عينا كان أو دينا وبعده إذا كان عينا.