کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نکاح میں مہر کتنا مقرر کر دینا چاہیے؟ اور اس کی ادائیگی کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ شریعت نے کم از کم مہر 10 درہم مقرر کی ہے جس کا وزن دو تولے اور سات ماشے بنتا ہے ،موجودہ دور کے لحاظ سے تقریبا 30 گرام اور 618 ملی گرام بنتا ہے، جس کی موجودہ قیمت صرافہ بازار سے معلوم کرلی جائے۔
مہرکی زیادہ سے زیادہ مقدار شریعت میں مقرر نہیں ہے ،دونوں خاندان باہمی رضامندی سے جو مقدار طے کرلیں وہی مہر ہوگا،البتہ مہر میں اتنی رقم مقرر کرلینا جس کی ادائیگی شوہر کے لیے مشکل ہو،یا محض دکھلاوے کے لیے زیادہ رقم مقرر کرلینا مناسب نہیں ہے۔
البتہ مہر فاطمی رکھنا سنت ہے جو تقریبا 500 درہم ہے اور تولے کے حساب سے 131 تولے تین ماشہ ہے جس کی موجودہ قیمت صرافہ بازار سے معلوم کرلی جائے۔
نیز مہر ادا کرنا شوہر کی ذمہ واجب ہے جب تک شوہر مہر کی رقم ادا نہ کر دے تو بیوی شوہر کو اپنے پاس آنے سے روک سکتی ہے، اسی طرح اگر مہر ادا نہیں کیا اور بیوی کا انتقال ہو گیا تو میراث تقسیم کرنے سے پہلے مہر ادا کیا جائے گا۔
صحيح مسلم: (4/ 144، رقم الحديث : 78 - (1426)، ط: دار طوق النجاة )
عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا. قالت: أتدري ما النش؟ قال: قلت: لا. قالت: نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه.
الدرالمختار : (3/ 101، ط: دارالفكر)
لا مهر أقل من عشرة دراهم ورواية الأقل تحمل على المعجل (فضة وزن سبعة) مثاقيل كما في الزكاة (مضروبة كانت أو لا) ولو دينا أو عرضا قيمته عشرة وقت العقد، أما في ضمانها بطلاق قبل الوطء فيوم القبض (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة .