السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت مفتی صاحب! ایک کاروبار میں بہت سے افراد نے الگ الگ سرمایہ لگایا ہوا ہے۔ کاروبار کے اونر/منتظم کے پاس تمام شرکاء کے سرمایہ کا مکمل حساب موجود ہے، اگرچہ ہر شریک کو دوسرے شریک کے سرمایہ کی مقدار معلوم نہیں۔ ہر شریک کے ساتھ منافع کا ایک فیصد پہلے سے طے ہے اور کاروبار کا منتظم اسی طے شدہ فیصد کے مطابق منافع تقسیم کرتا ہے۔ نقصان کی صورت میں بھی شرکاء اپنے اپنے سرمائے کے لحاظ سے نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔ میں نے بھی اس کاروبار میں اپنا سرمایہ لگایا ہوا ہے، اس لیے میں نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوں، لیکن اس کے علاوہ میں اسی کاروبار کی دکان پر باقاعدہ کام بھی کرتا ہوں اور روزانہ کے حساب سے (ڈیلی بیسس پر) میری اجرت/تنخواہ مقرر ہے، جو مجھے میرے کام کے بدلے دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ: کیا میرے لیے ایک طرف کاروبار میں اپنے سرمایہ کی وجہ سے منافع لینا اور دوسری طرف اسی کاروبار میں باقاعدہ کام کرنے کی وجہ سے روزانہ اجرت/تنخواہ لینا شرعاً جائز ہے؟مزید یہ کہ اگر اس میں کوئی شرعی شرط یا تفصیل ہو تو براہِ کرم وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
واضح رہے کہ مشترکہ کاروبار کے لیے ضروری ہے کہ شرکت میں حاصل ہونے والے نفع کی تقسیم فیصد یا حصوں کے اعتبار سے ہو،مثلاً نفع دونوں شرکاء کے درمیان آدھا آدھا ہو،یا کسی ایک فریق کے لیے ستر فیصد اور دوسرے کے لیے تیس فیصد یا دونوں کے سرمایہ کے بقدرنفع تقسیم ہو۔ اور اگر دونوں شریک کام کرتے ہوں اور ایک شریک زیادہ محنت کرتا ہو یا کاروبار کو زیادہ وقت دیتا ہو یا ایک ہی شریک کام کرتاہے تو اس کے لیے نفع کی شرح باہمی رضامندی سے بڑھانا درست ہے۔ جو شخص کسی کاروبار میں شریک ہو اور خود بھی اس کاروبار میں کام کرے تو اس کے عوض الگ سے تنخواہ یا اجرت مقرر کرنا جائز نہیں۔ ایسے شریک کے لیے اس کی اجرت کے بجائے کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع میں دوسرے شریک کی نسبت زیادہ فیصد طے کرنا شرعاً جائز ہے۔ پوچھی گئی صورت میں آپ کو چاہیے کہ آپ الگ سے کام کرنے کی تنخواہ نہ لیں بلکہ باہمی اتفاق سے نفع فیصد کے اعتبار سے زیادہ مقرر کروالیں۔
مجمع الانهر:(721/1،ط: دارإحياء التراث العربي) (وتصح) أي شركة العنان (في نوع من التجارات) كالبر ونحوه (أو في عمومها) أي في عموم التجارات (وببعض مال كل منهما وبكله) أي وبكل مال كل منهما لعدم اشتراط التساوي. (و) تصح (مع التفاضل في رأس المال) بأن يكون لأحدهما ألف وللآخر ألفان مثلا (والربح) بأن يكون ثلثا الربح لأحدهما وثلثه للآخر. (و) تصح (مع التساوي فيهما) أي في رأس المال والربح (وفي أحدهما دون الآخر) أي التساوي في رأس المال والتفاضل في الربح وعكسه (عند عملهما و) تصح (مع زيادة الربح للعامل عند عمل أحدهما). تبيين الحقائق:(318/3،ط: دار الكتاب الاسلامي) قال رحمه الله (وتصح مع التساوي في المال دون الربح وعكسه) وهو أن يتساويا في الربح دون المال ومعناه أن يشترطا الأكثر للعامل منهما أو لأكثرهما عملا وإن شرطاه للقاعد أو لأقلهما عملا فلا يجوز. بدائع الصنائع:(69/6،ط: دارالكتب العلمية) (ومنها): أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.