السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! ایک شرعی مسئلے (عقدِ اجارہ) سے متعلق رہنمائی درکار ہے:میں ایک شخص کے پاس سکریپ (Scrap) کے کام میں ملازم ہوں، میرا بنیادی کام سکریپ کا مال چیک کرنا، مطلوبہ سامان الگ رکھنا اور غیر ضروری لوہا وغیرہ سائیڈ پر نکلوانا ہے۔ مالک کے ساتھ میری اجرت کا معاہدہ اس طرح طے ہوا ہے،اگر میں ایک دن کام کروں گا تو میری اجرت 3,000 روپے ہوگی۔ اگر ڈیڑھ (1.5) دن کام ہوگا تو میری اجرت 5,000 روپے ہوگی۔ سوال: کیا شریعتِ اسلامیہ کی رو سے وقت اور کام کی بنیاد پر اجرت کا یہ معاہدہ اور طریقہ کار درست ہے؟ یا اس میں کوئی شرعی قباحت موجود ہے؟ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
واضح رہے کہ عقدِ اجارہ میں اجرت کا معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے، تاکہ فریقین کے درمیان نزاع اور جہالت باقی نہ رہے، نیز اجرت کو وقت یا کام کی متعین مقدار کے اعتبار سے مقرر کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ اس کی مدت اور اجرت پہلے سے واضح اور متعین ہوں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مالک کے ساتھ پہلے سے یہ طے ہے کہ ایک مکمل دن کام کرنے کی اجرت 3,000 روپے ہوگی اور ڈیڑھ دن کام کرنے کی اجرت 5,000 روپے ہوگی اور کام کی مدت و نوعیت بھی فریقین کے علم میں ہے تو مذکورہ طریقے کے مطابق اجرت مقرر کرنا شرعاً جائز ہے، چنانچہ ایک دن کام کرنے کی صورت میں 3,000 روپے اور ڈیڑھ دن کام کرنے کی صورت میں 5,000 روپے اجرت دینا درست ہوگا، لہذا مذکورہ طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اجرت پر کام کرنا اور اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
النتف في الفتاوی:(558/2، ط: مؤسسة الرسالة) "واعلم أن الإجارة إنما تجوز في الأشياء التي تتهيأ ويمكن لمستأجرها استجلاب منافعها مع سلامة أعيانها بمكانها لما لكهأ، ولا تجوز الإجارة على استهلاك الأعيان. واعلم أن صحة الإجارة متعلقة بشيئين: إعلام الأجر وإعلام العمل، فإذا كان أحدهما مجهولا فالإجارة فاسدة لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: من استأجر أجيرا فليعلمه أجره، والإجارة إذا فسدت فإنها يجب فيها أجر المثل لا التسمية إلا أن تكون أقل من أجر المثل لأن الأجير قد رضي بذلك. معلومية الوقت والعمل: والإجارة لاتخلو من وجهين: إما أن تقع على وقت معلوم، أو على عمل معلوم، فإن وقعت على عمل معلوم فلا تجب الأجرة إلا بإتمام العمل إذا كان العمل مما لا يصلح أوله إلا بآخره وإن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجرة بمقدار ما عمل، وإذا وقعت على وقت معلوم فتجب الأجرة بمضي الوقت إن هو استعمله أو لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الأجرة، وإذا وقعت على عمل معلوم في وقت معلوم كقوله خط لي هذا الثوب إلى طلوع الشمس أو إلى غروب الشمس أو صلاة الظهر ونحوها فإنها فاسدة في قول أبي حنيفة لأنه لا يدري أيهما يسبق،وفي قول أبي يوسف ومحمد الإجارة جائزة لأنها وقعت على العمل والوقت للتعجيل." درر الحكام شرح غرر الأحكام:( 2 / 236،ط:دار إحياء الكتب العربية) (و) ثاني النوعين الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد أيضا (هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص) ويستحق الأجر بتسليم نفسه مدته، وإن لم يعمل كأجير شخص لخدمته أو رعي غنمه) وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه صارت مستحقة له والأجر مقابل بها فيستحقه.