السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 1) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ عموماً مدارس و مساجد میں لوگ قرآنی اوراق کے ڈبوں میں مختلف دینی کتابیں، قرآن کریم اور دیگر اوراق وغیرہ رکھ کر چلے جاتے ہیں، ان کتابوں کا کیا حکم ہے؟ 2) جو قرآن کریم یا کتابیں استعمال کے قابل نہ ہوں، اُن کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ 3) بعض کتابیں باطل نظریات والوں کی بھی ہوتی ہیں، اُن کا کیا کرنا چاہیے؟ 4) کیا قابلِ استعمال کتابیں مسجد و مدرسے کا کوئی ملازم مثلاً امام، مؤذن یا استاد اپنے ذاتی استعمال کے لیے رکھ سکتا ہے؟ 5) کیا قابلِ استعمال کتابیں مسجد و مدرسے کا کوئی ملازم مثلاً امام، مؤذن یا استاد وہ کتابیں کسی اور کو ہدیہ کر سکتا ہے؟ 6) ہدیہ کرنے کی صورت میں اگر ڈاک وغیرہ کے اخراجات آتے ہوں تو کیا وہ اپنی محنت کی اجرت وصول کر سکتا ہے؟ برائے کرم شریعت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
2،1) مقدس اوراق،قرآنی آیات اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ناموں کی بے حرمتی سے حفاظت ضروری ہے،اس کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ دفن کردیا جائے، اگر یہ مشکل ہو تو مخصوص مقدس اوراق کے ڈبوں میں رکھ دیا جائے۔ 3) اسی طرح اگر اوراق دھل سکتے ہوں تو ان کے حروف دھو کر پانی کسی پاک جگہ، کنویں یا ٹینکی میں بہایا جاسکتا ہے، یا پتھر وغیرہ کے ساتھ تھیلی میں ڈال کر دریا، سمندر یا کنویں میں بھی ڈال سکتے ہیں، جن اشیاء پر مقدس نام یا آیات لکھی ہوں۔ 4) مسجد کمیٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کرے اور لوگوں کو اس کا پابند بنائے کہ بلا اجازت کوئی کتاب مسجد میں نہ رکھیں، خصوصاً ایسی کتابیں جن میں غلط عقائد یا گمراہ کن نظریات موجود ہوں اور جن کے مطالعے سے عوام کے عقائد متاثر ہونے کا اندیشہ ہو، ایسی کتابوں کو مناسب اور محفوظ طریقے سے دفن کردیا جائے۔ 5,6) اگر کوئی مستند عالمِ دین ان کتابوں کی خرابیوں سے واقف ہو اور اس کے گمراہ ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو علمی مقصد کے لیے وہ کتاب اسے دی جاسکتی ہے،تاہم کسی کو دینے میں جو خرچہ آئے وہ مسجد کے فنڈ سے وصول نہیں کیا جا سکتا، مسجد کا فنڈ صرف مسجد کے متعلقہ کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔
الھندیة: (323/5، ط: دار الفکر) المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب. الشامية:(422(6،ط: دارالفكر) والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت عن الانتفاع بها اهـ. يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم، لأن أفضل الناس يدفنون. وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقا وتعذر القراءة منه لا يحرق بالنار إليه أشار محمد وبه نأخذ، ولا يكره دفنه، وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة، ويلحد له لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لا تصل إليه يد محدث ولا غبار، ولا قذر تعظيما لكلام الله عز وجل اهـ. الدرالمختار مع رد المحتار:(1771،ط: دارالفكر) المصحف إذا صار بحال لا يقرأ فيه يدفن كالمسلم، ويمنع النصراني من مسه، وجوزه محمد إذا اغتسل ولا بأس بتعليمه القرآن والفقه عسى يهتدي. ويكره وضع المصحف تحت رأسه إلا للحفظ والمقلمة على الكتاب إلا للكتابة... (قوله: كالمسلم) فإنه مكرم، وإذا مات وعدم نفعه يدفن وكذلك المصحف، فليس في دفنه إهانة له، بل ذلك إكرام خوفا من الامتهان. الهندية:(378/5،ط: دارالفكر) ومن العلوم المذمومة علوم الفلاسفة فإنه لا يجوز قراءتها لمن لم يكن متجرا في العلم وسائر الحجج عليهم وحل شبهاتهم والخروج عن إشكالاتهم.