کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک مکان کرایہ پر دینے کی نیت سے خریدا ہے، اب جب میں اس کی زکوۃ ادا کروں گا تو مکان کی قیمت اور حاصل شدہ کرایہ دونوں کی زکوٰۃ ادا کروں گا یا صرف حاصل شدہ کرایہ کی ؟
زکوٰۃ صرف اس پلاٹ پر واجب ہوتی ہے جو تجارت کی حتمی نیت سے خریدا جائے اور پھر وہ نیت برقرار بھی رہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں مکان چونکہ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا گیا، اس لیے اس پر زکوۃ لازم نہیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زکوٰۃ فرض ہے، بشرطیکہ وہ نصاب تک پہنچ جائے یا آپ پہلے سے صاحب نصاب ہو۔
الشامية :(2/ 264، ط: دارالفكر) (ولا في ثياب البدن)المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة . الهندية:(1/ 174، ط: دارالفكر ) أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض من العروض فتصير للتجارة، وإن لم ينو التجارة صريحا . الفقه الإسلامي وأدلته :(3/ 1947، ط:دارالفكر) أو العمارات بقصد الكراء، والمصانع المعدة للإنتاج، ووسائل النقل من طائرات وبواخر (سفن) وسيارات، ومزارع الأبقار والدواجن وتشترك كلها في صفة واحدة هي أنها لا تجب الزكاة في عينها.