کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت نے رمی کی ، لیکن طواف زیارت نہیں کیا ، اور گھر آئی کپڑے وغیرہ بھی تبدیل کردیئے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس پر دم لازم ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ رمی وقصر کے بعد احرام سے نکلنے کی وجہ سے کچھ بھی واجب نہیں ہوگا ، البتہ طواف زیارت حج کا رکن ہے اور مکمل طور پر احرام سے نکلنے کے لیے شرط ہے ، لہذا اس کے بغیر نہ حج مکمل ہوگا اور نہ یہ عورت حلال ہو گی۔ طواف زیارت ہر حال میں کرنا لازم ہے ، اگر بغیر کسی عذر کے ایام النحر گزر گئےاور انہو ں نے طواف زیارت ادا نہیں کیا تو ان پر دم لازم ہوگا ۔
الشامية : (2/ 468، ط: دارالفكر) (قوله والحلق أو التقصير) أي أحدهما، والحلق أفضل للرجل، وفيه أن هذا شرط للخروج من الإحرام والشرط لا يكون إلا فرضا، وأجاب في شرح اللباب بأن وجوبه من حيث إيقاعه في الوقت المشروع، وهو ما بعد الرمي في الحج، وبعد السعي في العمرة. الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: (3/ 2205، ط: دارالفكر) فمن ترك طواف الزيارة، رجع من بلده متى أمكنه محرماً، لا يجزئه غير ذلك، لقصة صفية المتقدمة، فإنه صلى الله عليه وسلم قال بعد أن حاضت: «أحابستنا هي؟ قيل: إنها قد أفاضت يوم النحر، قال: فلتنفر إذاً». فهذا يدل على أن هذا الطواف لا بد منه، وأنه حابس لمن لم يأت به، فإن نوى التحلل ورفض إحرامه، لم يحل بذلك؛ لأن الإحرام لا يخرج منه بنية الخروج. وعلى هذا فإذا فات طواف الإفاضة عن أيام النحر لا يسقط، بل يجب أن يأتي به؛ لأن سائر الأوقات وقته.