مفتی صاحب ! اگر کسی شخص نے سرکاری حج اسکیم میں درخواست دی، لیکن اس کا نام قرعہ اندازی میں نہ آیا تو ایسی صورت میں کیا اس پر حج کی فرضیت برقرار رہتی ہے؟ نیز اگر وہ دیگر ذرائع (مثلاً پرائیویٹ اسکیم) کے ذریعے حج پر جانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
حج کی فرضیت کا مدار قرعہ اندازی یا سرکاری طریقۂ کار پر نہیں، بلکہ استطاعت پر ہے، اگر کسی شخص کے پاس حج پر جانے کی استطاعت ہو تو اس شخص پر حج فرض ہے، سرکاری حج اسکیم میں قرعہ اندازی میں نام نہ آنے کی وجہ سے اس سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی ، لہٰذا اگر وہ شخص مالی و جسمانی طور پر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ کسی دوسرے جائز ذریعے، مثلاً پرائیویٹ حج اسکیم کے ذریعے حج ادا کر سکے تو اس پر حج بدستور فرض رہے گا، اس کو بلا عذر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ اگر اس کے پاس صرف اتنی ہی رقم ہو جو سرکاری اسکیم کے لیے کافی تھی اور پرائیویٹ حج اس کی استطاعت سے باہر ہو تو ایسی صورت میں اس پر فی الحال حج فرض نہیں ہوگا، بلکہ جب مکمل استطاعت حاصل ہو جائے تب فرض ہوگا۔
*الھندیة:(258/1،ط: دار الفکر)* من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا خلاف وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج وأرجو أن يجزئه ذلك إن شاء الله تعالى، كذا ذكر أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - وإن مات عن وصية لا يسقط الحج عنه وإذا حج عنه يجوز عندنا باستجماع شرائط الجواز وهي نية الحج وأن( يكون الحج بمال الموصي أو بأكثره لا تطوعا وأن يكون راكبا لا ماشيا ويحج عنه من ثلث ماله سواء قيد الوصية بالثلث بأن أوصى أن يحج عنه بثلث ماله أو أطلق بأن أوصى بأن يحج عنه هكذا في البدائع. *رد المحتار: (458/2، ط: دار الفکر)* ''بخلاف ما لو ملكه مسلماً فلم يحج حتى افتقر حيث يتقرر وجوبه ديناً في ذمته، فتح، وهو ظاهر على القول بالفورية لا التراخي، نهر. قلت: وفيه نظر ؛ لأن على القول بالتراخي يتحقق الوجوب من أول سني الإمكان، ولكنه يتخير في أدائه فيه أو بعده، كما في الصلاة تجب بأول الوقت موسعاً، وإلا لزم أن لا يتحقق الوجوب إلا قبيل الموت، وأن لا يجب الإحجاج على من كان صحيحاً ثم مرض أو عمي، وأن لا يأثم المفرط بالتأخير إذا مات قبل الأداء، وكل ذلك خلاف الإجماع، فتدبر''.