السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ! پوچھنا یہ تھا کہ ایک آدمی بہت زیادہ ضعیف ہے اور اس پر حج فرض ہے آیا وہ اپنے فرض حج کے لیے کسی دوسرے کو بھیج سکتا ہے ؟
واضح رہے کہ اگر آدمی خود ضعیف ہو ،حج کے افعال ادا کرنے پر قادر نہ ہو، تو وہ کسی دوسرے شخص کو اپنی طرف سے حج کے لیے بھیج سکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کو بھیج دے جس نے خود حج کیا ہو۔
الدرالمختار: (2/ 598، ط: دارالفكر) كحج الفرض (تقبل النيابة عند العجز فقط). الهندية: (1/ 257، ط: دارالفكر) أراد أن يحج رجلا عن نفسه أن يحج رجلا قد حج عن نفسه، ومع هذا لو أحج رجلا لم يحج عن نفسه حجة الإسلام يجوز عندنا وسقط الحج عن الآمر، كذا في المحيط وفي الكرماني الأفضل أن يكون عالما بطريق الحج وأفعاله، ويكون حرا عاقلا بالغا، كذا في غاية السروجي شرح الهداية.