السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! کیا رمیِ جمرات کی جگہ واقعی شیطان بند ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہاں شیطان موجود ہوتا ہے، اسی لیے حاجی حضرات حج کے دوران جمرات کو کنکریاں مارتے ہیں۔ براہِ کرم رمیِ جمرات کی صحیح حقیقت اور اس کی شرعی حیثیت بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
رمیِ جمرات حج کی ایک اہم عبادت ہے، جو حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یادگار ہے، جب ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے لیے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے جا رہے تھے تو شیطان نے مختلف مقامات پر آ کر انہیں بہکانے کی کوشش کی، جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے کنکریاں مار کر دھتکارا، انہی مقامات کی یاد میں حاجی جمرات پر کنکریاں مارتے ہیں، روایات میں کہیں یہ نہیں کہ جمرات پر کنکریاں مارنے کا مقصد کسی بندھے ہوئے شیطان کو مارنا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنا ہے۔
*السنن الكبرى للبيهقي:(250/5،رقم الحديث: 9693،ط:دار الكتب العلمية)* أخبرنا أبو عبد الله الحافظ، أنبأ أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، ثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ثنا حفص بن عبد الله، حدثني إبراهيم بن طهمان، ثنا الحسن بن عبيد الله، عن سالم بن أبي الجعد، عن ابن عباس رفعه، قال: «لما أتى إبراهيم خليل الله عليه السلام المناسك عرض له الشيطان عند جمرة العقبة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض، ثم عرض له عند الجمرة الثانية فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض، ثم عرض له في الجمرة الثالثة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض» قال ابن عباس رضي الله تعالى عنه: «الشيطان ترجمون، وملة أبيكم تتبعون». *البحر المحيط الثجاج:(93/23،ط:دار ابن الجوزي)* قال ابن عباس: «الشيطانَ ترجمون، وملةَ أبيكم تتّبعون»، أخرجه ابن خزيمة في «صحيحه»، والحاكم واللفظ له، وصححه على شرط الشيخين. وقال النوويّ فيه أن السنة للحاجّ إذا دفع من مزدلفة، فوصل منى أن يبدأ بجمرة العقبة، ولا يفعل شيئًا قبل رميها، ويكون ذلك قبل نزوله.