احکام حج

جو بہن میراث میں خوشی سے اپنا حصہ تقسیم سے پہلے چھوڑے اس پر حج کی فرضیت

فتوی نمبر :
1601
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

جو بہن میراث میں خوشی سے اپنا حصہ تقسیم سے پہلے چھوڑے اس پر حج کی فرضیت

اگر کوئی شادی شدہ عورت اپنے والد کی وراثت میں اپنے بھائیوں سے اپنا حصہ اپنی خوشی سے نہیں لیتی، یعنی کہتی ہے کہ میں اپنا حق نہیں مانگتی تو کیا ایسی عورت پر حج فرض ہے یا نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ وراثت کی تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصے سے بلا عوض دست بردار ہونا شرعاً معتبر نہیں، البتہ تقسیم کے بعد جب ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کر لے تو وہ اپنا حصہ کسی ایک کو یا سب کو دینا چاہے تو یہ درست ہے، لہٰذا اگر بہن نے تقسیم سے پہلے اپنا حصہ چھوڑا تھا تو وہ شرعاً باطل ہے، بھائیوں پر لازم ہے کہ بہن کو ان کا مکمل شرعی حصہ ادا کریں،
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اس عورت کا حق بھائیوں کے ذمے ابھی بھی باقی ہے، لہذا بھائیوں کو چاہیے کہ وہ بہن کا حق اس کو ادا کریں، اس کے بعد اگر وہ کسی کو دینا چاہے تو اسے اختیار ہے۔

نیز واضح رہے کہ حج اس عاقل، بالغ اور مسلمان پر فرض ہوتا ہے جس کے پاس اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریاتِ زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے بعد اتنی زائد رقم ہو، جس سے حج کے سفر، رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات ادا ہوسکیں، لہذا اگر اس عورت کے پاس اتنا مال ہو کہ جس سے وہ حج کر سکے اور ساتھ جانے کے لیے محرم بھی میسر ہو تو اس پر حج فرض ہے، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر:(272/1،ط:دار الكتب العلمية)
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه.

البناية شرح الهداية:(138/4،ط:دار الكتب العلمية)
قال م: (الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاضلا عن المسكن، وما لا بد منه، وعن نفقة عياله إلى حين عوده، وكان الطريق آمنا) ش: هذا كله عبارة القدوري بعينها ذكرها المصنف ثم شرحها كلمة كلمة، وذكر الشراح كلهم أن المصنف ذكرها بلفظ الجمع، فقال: على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء.

فتح القدير للكمال ابن همام:(410/2،ط:دار الفكر)
(قوله إذا قدروا على الزاد) بنفقة وسط لا إسراف فيها ولا تقتير (والراحلة) أي بطريق الملك أو الإجارة دون الإعارة، والإباحة في الوقت الذي قدمنا ذكره. ولو وهب له مال ليحج به لا يجب عليه قبوله سواء كان الواهب ممن تعتبر منته كالأجانب، أو لا تعتبر كالأبوين والمولودين، وأصله أن القدرة بالملك هي الأصل في توجيه الخطاب فقبل الملك لما به الاستطاعة لا يتعلق به (قوله فاضلا) حال من كل واحد من الزاد والراحلة (عن المسكن وما لا بد منه) يعني من غيره كفرسه وسلاحه وثيابه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
39
فتوی نمبر 1601کی تصدیق کریں