السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہم حج کے لیے آئے ہوئے ہیں، اگر ہم 10 ذی الحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد آرام کے لیے اپنے ہوٹل چلے جائیں، پھر قربانی ہونے کے بعد ہوٹل ہی میں حلق یا قصر کروالیں اور اس کے بعد طوافِ زیارت کے لیے جائیں تو کیا اس صورت میں ہم پر کوئی دم لازم ہوگا؟
حاجی کے لیے حدود حرم میں حلق کرنا ضروری ہے، اگر حدود حرم سے باہر حلق کیا تو صحیح قول کے مطابق اس پر دم لازم آئے گا، نیز منی اور مکہ بھی حدود حرم میں داخل ہیں۔ پوچھی گئی صورت میں اگر آپ حضرات کا ہوٹل حدودِ حرم کے اندر واقع ہے تو وہاں حلق یا قصر کروانے میں کوئی حرج نہیں ، اس صورت میں دم بھی لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اگر ہوٹل حدودِ حرم سے باہر ہو اور وہاں حلق یا قصر کیا جائے تو اس صورت میں دم لازم ہوگا۔
*الهداية:(164/1،ط:دار احياء التراث العربي)* «وإن حلق في أيام النحر في غير الحرم فعليه دم ومن اعتمر فخرج من الحرم وقصر فعليه دم عند أبي حنيفة ومحمد» رحمهما الله تعالى «وقال أبو يوسف» ﵀ «لا شيء عليه». *العناية شرح الهداية:(63/3،ط: دار الفكر)* وقوله: (وإن حلق في أيام النحر) ظاهر (قال المصنف رحمه الله: ذكر محمد في الجامع الصغير قول أبي يوسف في المعتمر) أنه لا شيء عليه، (ولم يذكره في الحاج) إذا حلق خارج الحرم، (فقيل) إنما لم يذكره لأنه (بالاتفاق) في وجوب الدم؛ (لأن السنة جرت في الحج بأن يكون الحلق بمنى وهو من الحرم) فبتركه يلزم الجابر، (والأصح أنه على الخلاف) عندهما يجب الدم، وعند أبي يوسف لا يجب شيء، ووجه الجانبين على ما ذكر في الكتاب واضح. وقوله: (فالحاصل أن الحلق) يعني في الحج (يتوقت بالمكان والزمان) أي: بيوم النحر والحرم (عند أبي حنيفة، وعند أبي يوسف لا يتوقت بهما، وعند محمد يتوقت بالمكان دون الزمان، " وعند زفر يتوقت بالزمان دون المكان)