تکافل کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
297
معاملات / مالی معاوضات /

تکافل کی شرعی حیثیت

اسٹیٹ لائف آج کل اک فتویٰ دہکھ رہے ہیں کے تکافل انشورنس کا فتوی مفتی تقی عثمانی صاحب نے دیا ہے اور دو تین علماء نے کیا یہ ٹھیک ہے انشورنس کروانا یا اس میں کام کرنا اور اسلامک انشورنس بھی ہے ایک جو مفتی تقی عثمانی صاحب چلا رہے ہیں تکافل کے نام سے کیا وہ ٹھیک ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تکافل بنیادی طور پر انشورنس کا متبادل ہے، جس کے لیے علماء کرام نے قرآن، حدیث و فقہ کی روشنی میں کچھ اصول مرتب کیے ہیں، لہذا اگر ذکر کردہ کمپنی ان اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تکافل پالیسی بنائے اور اس کی نگرانی مستند علماء کا پینل کر رہا ہو تو اس سے پالیسی حاصل کرنا جائز ہے ۔
بصورت دیگر وہ مروجہ انشورنس کے حکم میں ہے، جس کا حصول جائز نہیں ۔

حوالہ جات

الشامیة:(403/6،ط: دارالفکر)*
"القمار ‌من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
88
فتوی نمبر 297کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --